مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 372
صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے یہ شرط عائد کر دی کہ حضور صرف مصافحہ فرماویں اور کسی قسم کی کوئی فرماویں۔حضور نے ملاقات شروع کی۔سب سے مصافحہ کرنے کے بعد لمبی گفتگو فرمائی اور پورے پونے دو گھنٹے احباب میں رونق افروز رہے۔چہرہ سے ضعف و اضمحلال کے آثار بالکل نمایاں تھے اور صاف دکھائی دیتا تھا کہ طبیعت ناساز ہے لیکن جب تک ملاقاتیوں کو شرف ملاقات نہ بخشا اندر تشریف نہ لے گئے۔“۔(ماہنامہ خالد سیدنا ناصر نمبر صفحہ 176 ) مکرم بشیر احمد رفیق صاحب مزید تحریر کرتے ہیں: مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد پہلی مرتبہ آپ (حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ) 1967ء میں کوپن ہیگن (Copenhagen) کی احمدیہ مسجد کے افتتاح کے لئے تشریف لائے۔میں کوپن ہیگن (Copenhagen) حاضر ہوا۔خلافت کے بعد پہلی مرتبہ جب میری نظر آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کے منور و تاباں چہرہ پر پڑی تو دل کی عجیب حالت ہوئی۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے ازراہِ شفقت گلے لگایا۔دیر تک ملاقات کا شرف عطا فرمایا۔چند دن بعد حضور رحمہ اللہ تعالی انگلستان تشریف لائے۔احباب خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔لندن ایئر پورٹ (Air Port) پر استقبال کا انتظام کیا گیا تھا۔ایک مختصر سا سٹیج (Stage) بنایا گیا تھا جس پر مائیکرو فون کا انتظام تھا۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے خدام میں تشریف لائے۔نعرہ ہائے تکبیر اور دیگر اسلامی نعروں سے لندن ایئر پورٹ کی کوئین (Queens) بلڈنگ گونج اٹھی۔میں نے عرض کیا کہ حضور! جماعت سے خطاب فرماویں۔حضور نے فرمایا مجھے تو اپنے خدام سے ملنے کا شوق ہے اس لئے تقریر کی ضرورت نہیں۔میں سب سے مصافحہ کروں گا۔چونکہ مصافحہ کا پروگرام نہ تھا اس لئے انتظام کرنے میں مشکل پیش آئی آپ نے مصافحہ پر اصرار فرمایا۔چنانچہ سینکڑوں احمدی جو وہاں موجود تھے حضور سے شرف مصافحہ اور بعض شرف معانقہ حاصل کر کے شاداں و فرحاں گھروں کو لوٹے۔حضور کو مسلسل ایک ڈیڑھ گھنٹہ کھڑے رہنا پڑا لیکن آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کا چہرہ احباب کی ملاقات کی خوشی میں دمک رہا تھا۔“ فرماتے ہیں: حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ: (ماهنامه خالد سیدنا ناصر نمبر صفحہ 170 ) احباب جماعت کس قدر اپنے آقا سے محبت کرتے ہیں اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالٰی ڈھنگ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک زندہ معجزہ جو ہر دوسرے اعتراض پر، ہر مخالفت پر غالب آنے والا معجزہ ہے، وہ جماعت احمدیہ کا قیام ہے اور جماعت احمدیہ کی تربیت ہے اور جماعت احمدیہ کے رنگ ہیں، جماعت احمدیہ کی ادائیں ہیں۔ایسی ادائیں تو دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آسکتیں۔کوئی مثال نہیں اس جماعت کی۔ایسا عشق، ایسی محبت ایسی وابستگی کہ دیکھ کر رشک آتا ہے۔محبت ہونے کے باوجود رشک آتا ہے۔ڈر لگتا ہے کہ ہم سے زیادہ نہ پیار کر رہے ہوں یہ لوگ۔یہ کیفیت ایک ایسی کیفیت ہے کہ فی الحقیقت دنیا کے پردہ میں کوئی اس کی مثال چھوڑ اس کے شائبہ کی بھی کوئی مثال نظر نہیں آسکتی۔“ (خطبات طاہر جلد 1 صفحہ 3,2) مکرم عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن روایت کرتے ہیں: کینیڈا (Canada) کے ایک احمدی دوست ایک غیر مسلم پروفیسر ڈاکٹر Gualter کو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ 372