مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 242 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 242

فرمایا کہ بول تو میں سکتا ہوں خدا کے سامنے کیا جواب دوں گا درس کا انتظام کرو میں (کلام الہی ) سنا دوں۔“ الفضل 18 فروری 1914 ء) میونسپل گزٹ لاہور نے 19 مارچ 1914 ء کو لکھا: "آپ رضی اللہ عنہ جیسا کہ زمانہ واقف ہے ایک بے بدل عالم زہد و اتقا کے لحاظ سے جماعت کے لئے تو واقعی ہی ایک پاکباز اور مسودہ صفات۔تھے۔وہ ہندوستان۔میں ایک عالم متبحر و جید فاضل تھے۔کلام اللہ سے جو آپ کو عشق تھا وہ غالباً بہت کم عالموں کو ہو گا اور جس طرح آپ نے عمر کا آخری حصہ احمدی جماعت پر صرف قرآن مجید کے حقائق و معارف آشکار فرمانے میں گزارا، بہت کم عالم اپنے حلقہ میں ایسا کرتے ہوئے پائے گئے۔اسلام کے متعلق آپ نے نہایت تحقیق و تدقیق سے کئی کتابیں لکھیں اور معترضین کو دندان شکن جواب دیئے۔بہر حال آپ (رضی اللہ عنہ ) کی وفات جماعت کے لئے ایک صدمہ عظیم اور عام طور پر اہل اسلام کے لئے بھی کچھ کم افسوسناک نہیں۔“ (روز نامہ الفضل 19 مارچ 1914 ء ، 26 مئی 1991 قدرت ثانیہ نمبر) احباب جماعت سے تعلق: احباب جماعت کے بارے میں ایک مرتبہ اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ: ”میری آرزو ہے کہ میں تم میں ایسی جماعت دیکھوں جو اللہ تعالیٰ کی محبت ہو۔اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت محمد کی متبع ہو۔قرآن سمجھنے والی ہو۔میرے مولیٰ نے بلا امتحان اور بغیر مانگنے کے بھی مجھے عجیب عجیب انعامات دیئے ہیں۔جن کو میں گن بھی نہیں سکتا۔وہ ہمیشہ میری ضرورتوں کا آپ ہی کفیل ہوا ہے۔وہ مجھے ہے ا اور آپ ہی کھلاتا ہے۔وہ مجھے کپڑا پہناتا ہے اور آپ ہی پہناتا ہے۔وہ مجھے آرام دیتا ہے اور آپ ہی آرام دیتا ہے۔اس نے مجھے بہت سے مکانات دیئے ہیں۔بیوی بچے دیئے۔مخلص اور سچے دوست دیئے۔اتنی کتابیں دیں کہ دوسرے کی عقل دیکھ کر ہی چکر کھا جائے۔“ کھانا کھلاتا حیات نور از شیخ عبدالقادر صاحب سابق سوداگر مل صفحه 470 ) جماعت کی طرف سے اپنے امام سے بے پناہ خلوص و محبت کا اظہار : حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کے گھوڑے سے گرنے کا واقعہ پوری جماعت کے لئے ایک دل ہلا دینے والا حادثہ تھا جس نے سب ہی کو تڑپا دیا اور جوں جوں دوستوں کو یہ خبر پہنچی وہ دیوانہ وار اپنے محبوب آقا کی عیادت کے لئے کھچے چلے آئے۔بیمار پرسی کے لئے ہر طرف سے بکثرت خطوط پہنچنے لگے۔اور جماعت کے چھوٹے بڑے سب دعاؤں میں مصروف ہو گئے اور جماعتی رنگ میں بھی دعائے خاص کی مسلسل تحریکیں ہونے لگیں۔کئی دوستوں نے اصرار کیا کہ مرکز سے روزانہ بذریعہ کارڈان کو اطلاع دی جائے چنانچہ اس کا اہتمام بھی کیا گیا۔غرضکہ مخلصین جماعت نے خلیفہ وقت سے اس موقع پر جس فدائیت و شیدائیت کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ تھا۔حکیم محمد حسین صاحب قریشی نے ایک روز جناب باری میں عرض کی کہ اے مولیٰ! حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی کی ضرورتیں تو مختص المقام تھیں۔اور اب تو ضرورتیں جو درپیش ہیں ان کو بس تو ہی جانتا ہے۔ہماری دعا قبول کر اور ہمارے امام کو نوح علیہ السلام کی سی عمر عطا کر۔محمد حسین صاحب (لائل پور) نے دعا کی کہ حضرت صاحب کی بیماری مجھ کو آجائے اسی طرح سید ارادت حسین 242