مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 23
میں فرمایا: جماعت احمدیہ نے پچھلے ایک دو دن کے اندر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔اپنے دلوں سے محسوس کیا اور اس نظارہ کو دیکھ کے رُوحیں سجدہ ریز ہیں خدا کے حضور حمد کے ترانے گاتی ہیں۔پس دُکھ بھی ساتھ تھا اور حمد و شکر بھی ساتھ تھا اور یہ اکٹھے چلتے رہیں چلتے رہیں گے بہت دیر تک لیکن حمد اور شکر کا پہلو ایک ابدی پہلو ہے وہ ایک لازوال پہلو ہے وہ کسی شخص کے ساتھ وابستہ نہیں۔نہ پہلے کسی خلیفہ کی ذات سے وابستہ تھا نہ میرے ساتھ ہے نہ آئندہ کسی خلیفہ کی ذات سے وابستہ ہے، وہ منصب خلافت کے ساتھ وابستہ ہے۔وہ وہ پہلو ہے جو زندہ و تابندہ ہے اس پر کبھی موت نہیں آئے گی انشاء اللہ تعالی۔ہاں ایک شرط کے ساتھ اور وہ شرط یہ ہے: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ امَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ۔کہ دیکھو اللہ تم سے وعدہ کرتا ہے کہ تمہیں اپنا خلیفہ بنائے گا زمین میں لیکن کچھ تم پر بھی ذمہ داریاں ڈالتا ہے۔تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ کرتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور عمل صالح بجا لاتے ہیں۔پس اگر نیکی کے اوپر جماعت قائم رہی اور ہماری دعا ہے اور ہمیشہ ہماری کوشش رہے گی کہ ہمیشہ ہمیش کے لیے یہ جماعت نیکی پر ہی قائم رہے۔صبر کے ساتھ اور وفا کے ساتھ تو خدا کا یہ وعدہ بھی ہمیشہ ہمارے ساتھ وفا کرتا چلا جائے گا اور خلافت احمد یہ اپنی پوری شان کے ساتھ شجرہ طیبہ بن کر ایسے درخت کی طرح لہلہاتی رہے گی جس کی شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں۔“ (خطبہ جمعہ 11 جون 1982ء۔خطبات طاہر جلد 1۔صفحہ 3۔4) حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے احمدیوں پر کہ نہ صرف ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہونے کی توفیق ملی بلکہ اس زمانے میں مسیح موعود علیہ السلام اور مہدی کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق بھی اس نے عطا فرمائی جس میں ایک نظام قائم ہے، ایک نظام خلافت قائم ہے، ایک مضبوط کڑا آپ کے ہاتھ میں ہے جس کا ٹوٹنا ممکن نہیں لیکن یاد رکھیں کہ یہ کڑا تو ٹوٹنے والا نہیں لیکن اگر آپ نے اپنے ہاتھ اگر ذرا ڈھیلے کئے تو آپ کے ٹوٹنے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس سے بچائے اس لئے اس حکم کو ہمیشہ یا رکھیں کہ اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور نظام جماعت سے ہمیشہ چھٹے رہو کیونکہ اب اس کے بغیر آپ کی بقا نہیں۔“ سیدنا حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 11 مئی 2003ء کو احباب جماعت کے نام ایک خصوصی پیغام (خطبات مسرور جلد 1 صفحہ 256,257 خطبه جمعه بیان فرمودہ 22 اگست 2003 ء) ہے۔قدرتِ ثانیہ خدا کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے جس کا مقصد قوم کو متحد کرنا اور تفرقہ سے محفوظ رکھنا یہ وہ لڑی ہے جس میں جماعت موتیوں کی مانند پروئی ہوئی ہے۔اگر موتی بکھرے ہوں تو نہ تو وہ محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہی خوبصورت اور محفوظ ہوتے ہیں۔اگر قدرت ثانیہ نہ ہو تو اسلام کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔“ الفضل انٹر نیشنل 23 تا 30 مئی 2003ء صفحہ (1) خلیفہ خدا بناتا ہے: 23 25