مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 24
حدیث نبوی: عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ادْعِي لِيْ أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ وَأَخَاكِ حَتَّى اكْتُبَ كِتَاباً فَإِنِّي أَخَافُ اَنْ يَّتَمَنَّى مُتَمَنِّى وَيَقُولُ قَائِلٌ أَنَا أَوْلى وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ۔(صحیح مسلم شریف کتاب الفضائل باب فضائل ابو بکر صدیق) ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا کہ تم اپنے باپ ابو بکر اور اپنے بھائی کو بلا ؤ تا کہ میں تحریر لکھ دوں کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ کوئی (خلافت کی) آرزو کرنے والا آرزو نہ کرے اور کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ میں (خلافت کا) زیاد حقدار ہوں لیکن اللہ اور مومنین ابو بکر کے علاوہ کسی ( کی خلافت) پر آمادہ نہیں ہوں گے۔نبی کے بعد خلیفہ بنانا خدا تعالیٰ کا کام ہے: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”صوفیا نے لکھا کہ جو شخص کسی شیخ یا رسول اور نبی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے اس کے دل میں حق ڈالا جاتا ہے۔جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آجاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ کسی خلیفہ کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے اور پھر گویا اس امر کا از سر نو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح و استحکام ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقرر نہ کیا اس میں بھی یہی بھید تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب علم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقرر فرمائے گا کیونکہ یہ خدا کا کام ہے اور خدا کے انتخاب میں نقص نہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس کام کے واسطے خلیفہ بنایا اور اول حق انہی کے دل میں ڈالا۔حضرت مولانا الکرم سید محمد احسن صاحب نے عرض کیا کہ حضور کے الہام میں تو یہی مضمون ہے: اَلحَمدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ اور آیت استخلاف میں بھی اللہ تعالیٰ نے اسناد لَيَسْتَخْلِفَنَّ اور لَيُمَكِّنَنَّ کی اپنی طرف ہی فرمائی ہے نہ کہ رسول کی طرف۔ایک اور الہام میں اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام بھی شیخ رکھتا ہے۔انتَ الشَّيْخُ الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقْتُه۔اور ایک اور الہام میں یوں آتا ہے کہ كَمِثْلِكَ دُرِّلًا يُضَاعُ - ان الہامات سے ہماری کامیابی کا بین ثبوت ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 524۔525) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”سو اے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے۔سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے اس لئے تم میری بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پر یشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے 24