مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 214 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 214

سے دشمنی اس بنا پر تھی کہ اوّل تو آپ حضرت خلیفہ اول کے کامل فرمانبردار اور حضور کے دست و بازو اور زبردست مؤید تھے، دوسرے آپ کے تقویٰ و طہارت، تعلق باللہ، اجابت دعا اور مقبولیت روز بروز ترقی کر رہی ہے اور خود حضرت خلیفہ اسی اول بھی آپ کا بے حد اکرام کرتے ہیں۔ان وجو ہات کے باعث آپ رضی اللہ عنہ کا وجود منکرین خلافت کو خار کی طرح کھٹکتا تھا۔خلافت اولی کے دور میں آپ نے ہندوستان کے مختلف علاقوں نیز بلادِ عرب و مصر کا سفر کیا۔حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔1911ء میں آپ نے مجلس انصار اللہ قائم فرمائی اور 1913ء میں اخبار الفضل جاری کیا اور اس کی ادارت کے فرائض اپنی خلافت کے دور تک نہایت عمدگی اور قابلیت سے سر انجام دیئے۔عہد خلافت ثانیه حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 14 مارچ 1914 ء کو مسجد نور (قادیان) میں خلافت کا انتخاب ہوا۔دو اڑھائی ہزار افراد نے جو اُس وقت موجود تھے بیعت خلافت کی، قریباً پچاس افراد ایسے تھے جنہوں نے بیعت نہیں کی اور اختلاف کا راستہ اختیار کیا۔اختلاف کرنے والوں میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب جو اپنے آپ کو سلسلہ کا عمود سمجھتے تھے پیش پیش تھے۔خلافت سے انکار اور حبل اللہ کی ناقدری کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ لوگ (قادیان) سے منقطع ہوئے؟ صدر انجمن احمدیہ سے منقطع ہوئے۔نظام وصیت سے منقطع ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے منکر ہوئے اور اپنے کئی عقائد و نظریات میں اس لئے تبدیلی کرنے پر مجبور ہوئے کہ شاید عوام میں مقبولیت حاصل ہو لیکن وہ بھی نصیب نہ ہوئی۔حضرت خلیفة أمسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت اسلام کی ترقی اور بے نظیر کامیابیوں کا درخشاں دور ہے۔اس باون سالہ دور میں خدا تعالیٰ کی غیر معمولی نصرتوں کے ایسے عجیب در عجیب نشانات ظاہر ہوئے کہ ایک دنیا ورطہ حیرت میں پڑ گئی اور دشمن سے دشمن کو بھی یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہ رہا کہ اس زمانہ میں سلسلہ عالیہ احمدیہ نے غیر معمولی ترقی کی ہے اور یہ کہ امام جماعت احمدیہ بے نظیر صلاحیتوں کے مالک ہیں۔حضرت خلیفہ اُسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے اس باون سالہ عہدِ خلافت میں مخالفتوں کے بہت سے طوفان اٹھے۔اندرونی اور بیرونی فتنوں نے سر اٹھایا مگر آپ رضی اللہ عنہ کے پائے استقلال میں ذرا سی جنبش نہ ہوئی اور یہ الہی قافلہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اپنی منزل کی جانب بدستور بڑھتا گیا۔ہر فتنہ کے بعد جماعت میں قربانی اور فدائیت کی روح میں نمایاں ترقی ہوئی اور قدم آگے ہی آگے بڑھتا گیا۔جس وقت منکرین خلافت مرکز سلسلہ کو چھوڑ کر گئے اس وقت انجمن کے خزانے میں چند آنوں کے سوا کچھ نہ تھا لیکن جس وقت آپ رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا اس وقت صدر انجمن اور تحریک جدید کا بجٹ 71 لاکھ نواسی ہزار تک پہنچ چکا تھا۔اختلاف کے وقت ایک کہنے والے نے مدرسہ تعلیم الاسلام کے متعلق کہا کہ یہاں اُلو بولیں گے لیکن خدا کی شان کہ وہ مدرسہ نہ صرف کالج بنا بلکہ اس کے نام پر بیسیوں تعلیمی ادارے مختلف ممالک میں قائم ہوئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتلایا تھا وہ لفظاً لفظاً پورا ہوا۔حضرت فضل عمر جلد جلد بڑھے اور دنیا کے کنارون تک اشاعتِ اسلام کے مراکز قائم کر کے شہرت پائی۔( دینی معلومات کا بنیادی نصاب شائع کردہ مجلس انصاراللہ پاکستان صفحہ 174 تا 178) خلافت ثانیہ میں انکارِ خلافت کا پہلا فتنہ اور اس کا سد باب سب سے پہلے حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو فتنہ انکارِ خلافت کا سامنا کرنا پڑا۔جماعت احمدیہ پر ایک کڑا وقت آن پڑا تھا۔قادیان میں حاضر احمدیوں میں سے اگر چہ جمہور نے بڑے اخلاص اور پاک نیت کے ساتھ حضرت مرزا بشیرالدین 214