مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 213 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 213

وہ موعود خلیفہ ہیں جس کا وعدہ دیا گیا تھا۔ابتدائی زندگی: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے 20 فروری 1886ء کو ایک مسیحی نفس لڑکے کے پیدائش کی خبر دی جو دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جانا تھا اور بتلایا گیا کہ وہ نو سال کی عرصہ میں ضرور پیدا ہو جائے گا۔اس پیشگوئی کے مطابق سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم کے بطن سے 12 جنوری1889ء بروز ہفتہ تولد ہوئے۔الہام الہی میں آپ کا نام محمود، بشیر ثانی اور فضل عمر بھی رکھا گیا اور کلمتہ اللہ نیز فجر رسل کے خطابات سے نوازا گیا۔آ۔رضی اللہ عنہ کے بارے میں الہاماً یہ بھی بتایا گیا کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا، خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا، وہ جلد جلد بڑھے گا، اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا، زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔چونکہ آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت سی بشارات ملی تھیں اس لئے حضور علیہ السلام آپ رضی اللہ عنہ کا بہت خیال رکھتے۔کبھی آپ کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔بچپن سے آپ رضی اللہ عنہ کی طبیعت میں دین کی طرف رغبت تھی۔دعا میں شغف تھا اور نمازیں بہت توجہ سے ادا کرتے تھے۔آپ رضی اللہ عنہ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ تعلیم الاسلام (قادیان) میں پائی۔صحت کی کمزوری اور نظر کی خرابی کے باعث آپ رضی اللہ عنہ کی تعلیمی حالت اچھی نہ رہی اور آپ رضی اللہ عنہ ہر جماعت میں رعایتی ترقی پاتے رہے۔مڈل اور انٹرنس (میٹرک) کے سرکاری امتحانوں میں فیل ہوئے اس طرح دنیوی تعلیم ختم ہو گئی۔اس درسی تعلیم کے بعد حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل نے اپنی خاص تربیت میں لیا۔قرآن کریم کا ترجمہ تین ماہ میں پڑھا دیا۔پھر بخاری بھی تین ماہ میں پڑھا دی، کچھ طب بھی پڑھائی اور چند عربی کے رسالے پڑھائے۔قرآنی علوم کا انکشاف تو موہبت الہی ہوتی ہے مگر یہ درست ہے کہ قرآن کریم کی چاٹ حضرت خلیفہ اُسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے ہی لگائی۔جب آپ رضی اللہ عنہ کی عمر 18،17 سال کی تھی ایک دن خواب میں ایک فرشتہ ظاہر ہوا اور اس نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھائی۔اس کے بعد سے تفسیر قرآن کا علم خدا تعالیٰ خود عطا کرتا چلا گیا۔1906ء میں جب کہ آپ کی عمر 17 سال تھی۔صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ رضی اللہ عنہ کو مجلس معتمدین کا رکن مقرر کیا، 26 مئی 1908ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جب وصال ہوا تو غم کا ایک پہاڑ آپ رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑا۔غم اس بات کا تھا کہ سلسلہ کی مخالفت زور پکڑے گی اور لوگ طرح طرح کے اعتراضات کریں گے تب آپ رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ السلام کے جسدِ اطہر کے سرہانے کھڑے ہو کر اپنے رب سے عہد کیا کہ: اگر سارے لوگ بھی آپ (یعنی مسیح موعود علیہ السلام) کو چھوڑ دیں گے اور میں اکیلا رہ جاؤں گا تو میں اکیلا ہی ساری دنیا کا مقابلہ کروں گا اور کسی مخالفت اور دشمنی کی پرواہ نہیں کروں گا“۔یہ عہد آپ رضی اللہ عنہ کی اولو العزمی اور غیرت دینی کی ایک روشن دلیل ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اس عہد کو خوب نبھایا۔16:15 برس کی عمر میں پہلی مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ کو الہام ہوا کہ: إِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُو إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔اس پہلے الہام میں ہی اس امر کی بشارت موجود تھی کہ آپ ایک دن جماعت کے امام ہوں گے۔قرآن کریم کا فہم آپ کو بطور موہبت عطا ہو اتھا۔جس کا اظہار ان تقاریر سے ہوتا تھا جو وقتا فوقتاً آپ جلسہ سالانہ پر یا دوسرے مواقع پر کرتے تھے۔آیت کریمہ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کے مطابق یہ اس امر کا ثبوت تھا کہ سیدنا پیارے محمود کے دل میں خدا اور اس کے رسول اور اس کے کلام پاک کی محبت کے سوا کچھ نہ تھا لیکن برا ہو حسد اور بغض کا، منکرین خلافت آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف بھی منصوبے بناتے رہتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ کسی طرح حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ آپ سے بدظن ہو جائیں۔ان کو آپ 213