مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 215 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 215

محمود احمد صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر کے نظام خلافت کے حق میں فیصلہ صادر کر دیا تھا لیکن نظام جماعت کے اہم عہدوں پر ابھی تک منکرین خلافت قابض تھے، پریس کا بیشتر حصہ ان کے ہاتھ میں تھا، روپے پیسے کی کنجیاں ان کے پاس تھیں اور ایسی معروف اور بظاہر عظیم شخصیتیں ان کے ہم خیال تھیں جن کا اثر جماعت پر بلا شبہ بڑا گہر اور وسیع تھا، ان میں مولانا محمد علی صاحب پیش پیش تھے جن کو دنیاوی علوم کی برتری کے باعث اور انگریزی تفسیر القرآن کا مقدس کام تفویض ہونے کے سبب نیز صدر انجمن احمدیہ کے سیکرٹری ہونے کی وجہ سے جماعت میں ایک غیر معمولی عزت اور احترام کا مقام حاصل تھا۔پھر سلسلہ کے بعض اور اہم افراد جن میں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب خواجہ کمال الدین صاحب وکیل شیخ رحمت اللہ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں بھی اس گروہ میں شامل تھے اور مولوی محمد علی صاحب کی سرکردگی میں منکرین خلافت کی صف اول میں کھڑے تھے۔ان میں سے اکثر صدر انجمن احمدیہ کے ممبر ہونے کی وجہ سے بھی جماعت میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔انتخاب خلافت کے ساتھ ہی انہوں نے جماعت کے تمام ابلاغ و اشاعت کے ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے سارے ہندوستان میں نظام خلافت کی تردید میں ایک خطرناک اور زہریلے پراپیگنڈے (Propaganda) کی مہم بڑی سرعت کے ساتھ شروع کر دی بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پراپیگنڈے کا یہ منصوبہ خفیہ طور پر منظر عام پر آنے کا منتظر تھا۔اس منصوبہ کے تحت بکثرت جماعتوں میں مہلک خیال پھیلا یا گیا کہ مرزا محمود احمد اور ان کے رفقا نے اپنے ذاتی مفاد اور اقتدار کی خاطر نظام خلافت کا یہ ڈھونگ رچایا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام واضح طور پر صدر انجمن احمدیہ کو اپنا جانشین مقرر فرما گئے تھے۔نیز یہ کہا کہ ابھی سے ان لوگوں نے دین کو بگاڑنا شروع کر دیا ہے اور اگر اس نعوذ باللہ گمراہ کن غیر ذمہ دار کچی عمر کے نوجوان کی قیادت کو جماعت احمدیہ نے قبول کر لیا تو دیکھتے دیکھتے احمدیت کا شیرازہ بکھر جائے گا اور قادیان پر عیسائیت قابض ہو جائے گی۔اس قسم کے زہریلے پراپیگنڈے سے لیس بیبیوں کارندے ہر طرف جماعتوں میں دوڑا دیئے گئے اور انہیں خلافت کی بیعت سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ان حالات کے پیش نظر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے خلافت پر متمکن ہوتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ بکثرت رسائل اور اشتہارات کے ذریعے جماعت پر اصل صورت حال واضح فرمائی اور منکرین خلافت کے ہر قسم کے اعتراضات کا مؤثر جواب دیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے سنہری کارنامے اور آپ رضی اللہ عنہ کی بابرکت تحریک: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بہت سے کارناموں میں سے چند کا ذکر اختصار سے درج ذیل ہے: جماعتی کاموں میں تیزی اور مضبوطی پیدا کرنے کے لئے صدر انجمن احمدیہ کے کاموں کو مختلف شعبوں میں -1 -2 کر کے نظارتوں کو نظام قائم کیا۔بیرونی ممالک میں تبلیغ کے کام کو وسیع پیمانے پر چلانے کیلئے 1934 ء میں تحریک جدید جاری فرمائی اور صدر انجمن احمدیہ سے الگ ایک نئی انجمن یعنی تحریک جدید انجمن احمدیہ کی بنیاد رکھی۔اس کے نتیجہ میں بفضل ایزدی یورپ، ایشیا، افریقہ اور امریکہ کے مختلف ممالک اور جزائر میں نئے تبلیغی مشن قائم ہوئے، سینکڑوں مساجد تعمیر ہوئیں، قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے اور کثرت کے ساتھ اسلامی لٹریچر مختلف زبانوں میں شائع کیا گیا اور لاکھوں افراد اسلام کے نور سے منور ہوئے۔اندرون ملک دیہاتی علاقوں میں تبلیغ کے کام کو مؤثر رنگ میں چلانے کے لئے 1957ء میں ”وقف جدید انجمن احمدیہ کے نام سے تیسری انجمن قائم کی۔جماعت میں قوتِ عمل کو بیدار رکھنے کیلئے آپ رضی اللہ عنہ نے جماعت میں ذیلی تنظیمیں یعنی انصار اللہ، الاحمدیہ، اطفال الاحمديه، لجنہ اماء اللہ اور ناصرات الاحمدیہ قائم فرمائیں تا کہ مرد اور عورتیں، بچے اور جوان سب اپنے اپنے رنگ میں -3 -4 خدام 215