مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 159 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 159

1983ء میں ایک غیر مبائع خواجہ محمد نصیر اللہ صاحب ممبر مجلس معتمدین سیکرٹری جماعت راولپنڈی نے ایک ٹریکٹ میں اپنے موجودہ امیر کی خفیہ پالیسی پر زبردست تنقید کرتے ہوئے : ”ہم حیران و ششدر ہیں کہ خداوند یہ جماعت کب سے فرقہ باطنیہ بن گئی ہے جس کی عقیدہ سے لے کر سیادت و سیاست تک ہر چیز پراسرار ہوتی تھی۔“ نیز لکھا: دو ہم ས་ 66 سطح پر دوسری جماعتوں سے مار کھا چکے ہیں ہمارے ہاں علمائے دین کا فقدان ہے اہل قلم ناپید ہیں۔فصاحت و بلاغت اور حسن خطاب کی رمق تک باقی نہیں رہی۔زمانہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور نئے سے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ان پر کوئی بولنے والا اور لکھنے والا ہمارے ہاں کوئی دکھائی نہیں دیتا۔وہی آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے کی باتیں بے ڈھنگے پن سے بار بار بیان کی جاتی ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے قلعے سر کر لئے ہیں۔پھر انفرادی اور اجتماعی صورت میں جماعت کی عملی حالت ہمارے تنزل اور انحطاط کی دُہائی دے رہی ہے۔دو 66 مجلس معتمدین سے جناب ڈاکٹر سعید احمد صاحب کا خطاب پر ایک نظر صفحہ 11 و 13 و تاریخ احمدیت جلد نمبر 19 صفحہ 205) اخبار عصر جدید غیر مبائعین کے بارے میں لکھتا ہے: وہ لوگ جو خواجہ کمال الدین صاحب کے ہم خیال ہو کر دوسرے مسلمانوں سے بظاہر مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور جس میں بہت سے احمدی لاہور وغیرہ کے شامل ہیں ان کو صاحبزادہ بشیر محمود (بشیر الدین محمود احمد۔ناقل) کے فریق نے تقریباً ہر جگہ شکست دے دی ہے۔(بحوالہ الحق دہلی 22 رمئی 1914 ء صفحہ 2 کالم نمبر 1) غیر مبائعین خود اقرار کرتے ہیں کہ ان کی جماعت ترقی نہیں کر رہی چنانچہ الحاج شیخ میاں محمد صاحب کہتے ہیں: یہاں لاہور میں کام شروع کئے ہوئے ہمیں 37 سال گزر چکے ہیں اور ہم اس چار دیواری سے باہر نہیں نکلے بحثیں ہوتی ہیں کہ ہماری ترقی میں کیا روکیں ہیں بعض کہتے کہ جماعت قادیان نے دعوی نبوت کو حضرت امام زمان کی طرف منسوب کر کے اور دوسرے تمام مسلمانوں کو کافر کہہ کر ایک بہت بڑی روک پیدا کر دی ہے لیکن اس اعتقاد کے باوجود ان کی ترقی تو بدستور ہو رہی ہے میرے خیال میں ہماری ترقی کے رکنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا مرکز دلکش نہیں۔بہت سے نوجوان ہمارے سامنے ہیں جن کے باپ دادا سلسلہ عاشق تھے ان نوجوانوں میں وہ روح آج مفقود ہے۔66 پر ( تقرير الحاج شیخ میاں محمد صاحب مطبوعہ پیغام صلح 6 فروری 1952ء صفحہ 7 کالم 1) لاہوری فریق نے انجمن کے نظام کو نظام خلافت پر فوقیت دی تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے امیر کی تحریک میں وہ برکت پیدا نہ ہو سکی جو کہ خلیفہ کی تحریک میں ہوتی ہے انہیں خود اس بات کا اعتراف کرنا پڑا کہ وہ اپنی تنظیم میں فیل ہو چکے ہیں ایک رپورٹ میں احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کے جنرل سیکرٹری تحریر کرتے ہیں: ” واقعات اور تجربہ نے ہمارے سامنے یہ تلخ حقیقت واضح کر دی ہے کہ اشاعت اسلام کے میدان میں ہماری ساری کامیابی کا راز ہماری جماعتی ترقی اور توسیع سے وابستہ ہے ہم نے عام طور پر اپنی مسلمان قوم سے جو توقعات وابستہ رکھی تھیں کہ ہمارے مشنوں اور ترویج علوم فرقانیہ کے کارناموں کو دیکھ کر ہمارے دینی مقاصد میں لوگ از خود شمولیت اور شرکت اختیار کر لیں گے وہ تمام حرف غلط کی طرح ثابت ہوئیں۔(احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کی 52 ویں رپورٹ صفحہ 5) 159