مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 160 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 160

چنانچہ اسی رپورٹ کے صفحہ 6 پر لکھتے ہیں: عام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کے استحکام اور احباب سلسلہ کے باہمی تعلقات کو استور کرنے یہ تجویز فرمایا تھا ہماری اولادوں کے رشتے ناطے اپنی جماعت کے اندر ہونے چاہئیں اور انجمن نے حتی الوسع باہمی رشتے ناطوں کیلئے کوشش بھی کی ہے لیکن افسوس ہے کہ اس سلسلہ میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔طور پر لڑکوں کے رشتے باہر کر لئے جاتے ہیں اور جماعت میں لڑکیوں کے رشتے تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے یہ ایک ناخوشگوار حقیقت ہے جس سے اجتناب ضروری ہے امام وقت کے ارشاد کی تعمیل میں ضروری ہے کہ ہم جماعت میں رشتے ناطے کریں خواہ ہمیں اس میں نقصان یا تکلیف ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑے۔“ غیر مبایعین نے خلافت کا انکار کر کے ناکامی کا منہ دیکھا چند حوالے پیش ہیں کہ غیر مبائعین کے ساتھ کیا سلوک ہوا: لکھتے حصہ یعنی یورپ کے مشہور مستشرق H۔R۔GIBB پروفیسر آکسفورڈ یونیورسٹی (Professor Oxford University 1914ء میں پہلے خلیفہ کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ دو حصوں میں بٹ گئی جماعت کا اصل۔قادیانی شاخ تو بانی سلسلہ کے دعوی نبوت اور ان کے بعد اجرائے نبوت پر قائم رہی لیکن الگ ہونے والے لاہوری فریق نے ان دونوں کا انکار کر دیا اور ایک نئے امیر کی قیادت میں انجمن اشاعت اسلام کی بنیاد ڈالی۔لاہوری فریق نے بعد میں اہل سنت واہل جماعت کے ساتھ مل جانے کی کوشش کی، مگر علماء اب بھی انہیں شبہ کی نگاہ سے ہی دیکھتے ہیں۔“ اخبار سیاست لکھتا ہے: دو ہیں: (ترجمه از (Muhammadanism) طبع دوم صفحہ 187) لاہوری احمدیوں کا مسلمانوں کو یہ بتانا کہ وہ انہیں مسلمان سمجھتے ہیں سرتا پا منافقت ہے جس سے کہ مسلمانوں کو آگاہ ہو جانا چاہیے۔" اخبار احسان لکھتا ہے : (سیاست 19 فروری 1935ء) ”مرزائیوں کے لاہوری جماعت کے فریب کاروں کا گروہ مرزا کو نبی سمجھنے اور کہنے میں قادیانیوں سے کم نہیں ہے اور جب وہ مسلمانوں سے یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہم قادیان کے مدعی نبوت کو محض محدث اور مجدد بلکہ محض ایک نیک مولوی سمجھتے ہیں تو ان کا مقصد دھوکہ دینے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔“ اخبار زمیندار لکھتا ہے : لاہوری مرزائی قادیانیوں سے کہیں زیادہ مسلمانوں کے لئے خطر ناک ہیں۔“ مولوی محمد علی صاحب خود اقرار کرتے ہیں کہ انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔چنانچہ لکھتے ہیں: (احسان 25 فروری 1935 ء) زمیندار 17 فروری 1935ء) 160