مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 130 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 130

اور اس کی مدد کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ اتارا گیا وہ دنیا اور آخرت کی مشکلات سے نجات پائیں گے۔“ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْللًا فَهِيَ إِلَى الْاذْقَانِ فَهُمْ مُقْمَحُونَ (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 420) (سورة يس: 9) ترجمہ : یقیناً ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں اس لئے وہ سر اونچا اٹھائے ہوئے ہیں۔(ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمہ از حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب شریعت نازل ہوتی ہے تو انسان اپنی من گھڑت رسوم کے طوق اپنی گردن میں ڈال لیتا ہے اور ان رسوم کی سختی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ انسان اپنے سامنے کی چیز کو بھی نہیں دیکھ سکتا اور ان سے بچنے کیلئے آنکھیں بند کر کے اپنی گردن اونچی کرنے لگتا ہے یعنی آنکھیں کھول کر یہ بھی نہیں دیکھتا کہ میں بیہودہ رسوم میں جکڑا ہوا ہوں مگر تکلیف دور کرنے کیلئے کبھی کبھی اپنی گردن اونچی کرتا ہے یعنی قوم ، چوری چھپے ان رسوم کی تکلیف سے بچنا بھی چاہتا ہے۔“ (تفسیر صغیر سورة يس: آیت 9، حاشیہ) اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِى لَهُوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ۔مهين۔(سورة لقمان: 7) ترجمہ: اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو بے ہودہ بات کا سودا کرتے ہیں تا کہ بغیر کسی علم کے اللہ کی راہ سے گمراہ کر دیں اور اسے تمسخر بنا لیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کر دینے والا عذاب (مقدر) ہے۔(ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمه از حضرت خلیلیه مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) حضرت جابر بن عبدا للہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم متعلقہ نے فرمایا:۔إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ وَاَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدَى مُحَمَّدٍ ، وَشَرُّ الْأمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ مُحْدَ ثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ۔(سنن النسائی، کتاب صلوة العيدين باب كيف الخطبة) ترجمہ: یقینا سب سچی بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے اچھا طریق محمد (صل اللہ ) کا طریق ہے اور بدترین باتیں رسمیں اور بدعتیں ہیں اور ہر رسم اور بدعت ضلالت ہے اور ہر ضلالت آگ میں ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيْهِ فَهُوَ رَةٌ۔(بخاری کتاب الصلح باب : اذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود) ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم صل اللہ نے فرمایا کہ جس نے ہمارے اس شریعت 130