مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 131 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 131

میں کوئی نئی بات داخل کی جو اس میں نہیں تو وہ رڈ کر دینے کے قابل ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے خوش کرنے کا ایک یہی طریق ہے کہ آنحضرت مطلقہ کی سچی فرمانبرداری کی جاوے۔دیکھا جاتا ہے کہ لوگ طرح طرح کی رسومات میں گرفتار ہیں۔کوئی مر جاتا ہے تو قسم قسم کی بدعات اور رسومات کی جاتی ہے۔حالانکہ چاہئے کہ مردہ کے حق میں دعا کریں۔رسومات کی بجا آوری میں آنحضرت ملالہ کی صرف مخالفت ہی نہیں بلکہ ان کی ہتک بھی کی جاتی ہے اور وہ اس طرح سے کہ گویا آنحضرت مطلقہ کے کلام کو کافی نہیں سمجھا جاتا۔اگر کافی خیال کرتے تو اپنی طرف سے رسومات کے گھڑنے کی کیوں ضرورت پڑتی۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 316) سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: چونکہ قرآن کریم و احادیث صحیحہ نبویہ سے ظاہر و ثابت ہے کہ ہر ایک شخص اپنے کنبہ کی عورتوں وغیرہ کی نسبت جن پر وہ کسی قدر اختیار رکھتا ہے سوال کیا جائے گا کہ آیا بے راہ چلنے کی حالت میں اس نے ان کو سمجھایا اور راہ راست کی ہدایت کی یا نہیں اس لئے میں نے قیامت کی باز پرس سے ڈر کر مناسب سمجھا کہ ان مستورات و دیگر متعلقین کو (جو ہمارے رشتہ دار و اقارب و واسطہ دار ہیں) ان کی بے راہیوں اور بدعتوں پر بذریعہ اشتہار کے انہیں خبر دار کروں کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے گھروں میں قسم قسم کی خراب رسمیں اور نالائق عادتیں جن سے ایمان جاتا رہتا ہے گلے کا ہار ہو رہی ہیں اور ان بری رسموں اور خلاف شرع کاموں سے یہ لوگ ایسا پیار کرتے ہیں جو نیک اور دینداری کے کاموں سے کرنا چاہیے۔ہر چند سمجھایا گیا کچھ سنتے نہیں، ہر چند ڈرایا گیا، کچھ ڈرتے نہیں، اب چونکہ موت کا کچھ اعتبار نہیں اور خدا تعالیٰ کے عذاب سے بڑھ کر اور کوئی عذاب نہیں اس لئے ہم نے ان لوگوں کے برا ماننے اور برا کہنے اور ستانے اور دُکھ دینے سے بالکل لا پروا ہو کر محض ہمدردی کی راہ سے حق نصیحت پورا کرنے کے لئے بذریعہ اس اشتہار کے ان سب کو اور دوسری مسلمان بہنوں اور بھائیوں کو خبردار کرنا چاہا تا ہماری گردن پر کوئی بوجھ باقی نہ رہ جائے اور قیامت کو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو کسی نے نہیں سمجھایا اور سیدھا راہ نہیں بتایا۔سو آج ہم کھول کر بآواز بلند کہہ دیتے ہیں کہ سیدھا راہ جس سے انسان بہشت میں داخل ہوتا ہے یہی ہے کہ شرک اور رسم پرستی کو چھوڑ کر دین اسلام کی راہ اختیار کی جائے اور جو کچھ اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور اس کے رسول کریم صلیقہ نے ہدایت کی ہے اس راہ سے نہ بائیں طرف منہ پھیریں اور نہ دائیں طرف اور ٹھیک ٹھیک اسی راہ پر قدم ماریں اور اس کے بر خلاف کسی راہ کو اختیار نہ کریں۔“ اشتہار بغرض تبلیغ و انذار مجموعہ اشتہارات جلد 1 (جدید ایڈیشن) صفحہ 84) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فضول رسموں کے ضمن میں فرماتے ہیں: میں یقیناً جانتا ہوں کہ اس قسم کی باتیں شعائر اسلام میں سے نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں نے یہ امور بطور رسوم ہندوؤں سے لئے ہیں۔“ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 417) ”ماتم کی حالت میں جزع فزع اور نوحہ یعنی سیاپا کرنا اور چیخیں مار کر رونا اور بے صبری کے کلمات منہ پر لانا، باتیں ایسی ہیں جن کے کرنے سے ایمان کے جانے کا اندیشہ ہے اور یہ سب رسمیں ہندوؤں سے لی گئی 131