مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 115 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 115

طرح ایک نئے مجدد کے پیدا ہونے کا خیال بعض طبائع میں پیدا ہوتا ہے۔اس سلسلہ میں یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کے بموجب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جب ظہور ہوا تو جیسا کہ آپ نے خود دعوئی فرمایا ہے کہ آپ کو صرف ایک صدی کا مجدد بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ دنیا کی عمر کے آخری ہزار سال کے لیے مجدد بنایا گیا اور آپ کی بعثت امام آخرالزماں کی حیثیت سے ہوئی ہے اس لیے اب کسی امام یا مجدد کے آنے کی گنجائش نہیں۔مجددین کی ضرورت اس دور کے لیے تھی جب خلافت کا سلسلہ بر قرار نہ تھا۔جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دور کے لیے مجددین کے آنے کی خبر دی وہاں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مسیح موعود اور مہدی موعود کے ذریعہ خلافت على مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ قائم کرے گا اور اس کا سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔پس یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ خلافت عـلـى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ کے قیام کے بعد الگ کسی مجدد کی ضرورت باقی نہیں رہی۔اب تجدید اور احیائے دین کا کام تا قیامت انشاء اللہ خلفائے مسیح موعود کے ذریعہ ہوتا رہے گا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظل ہوں گے۔“ ماریشس کے جلسہ سالانہ کے لئے پیغام : (خلافت و مجددیت - صفحہ 52-53) ”ہر احمدی کو یہ اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے بعد مجددین کی آمد کا سلسلہ بند ہو گیا ہے اور خدا تعالیٰ نے محض اپنے کرم سے انبیاء کے طریق پر نظام خلافت کو قائم فرمایا ہے اور خلفاء بلاشبہ مجددین ہیں۔اس نظام کو غیر معمولی محبت، فدائیت اور ناقابل شکست وفاداری کے ساتھ محفوظ رکھنا ہے۔اسلام کی برتری کے لیے یہ بات موجودہ نسل کو ہی ذہن میں نہیں رکھنی چاہئے بلکہ آئندہ نسلوں کے دلوں میں بھی اس بات کو راسخ کر دینا چاہیے۔“ ہر خلیفہ مجدد ہوتا ہے: حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: خلافت و مجددیت - صفحہ 58) اس وقت جماعت احمدیہ میں تیسرے خلیفہ کا زمانہ گزر رہا ہے۔چنانچہ مجھ سے پہلے ہر دو خلفا کا اور میرا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر خلیفہ مجدد بھی ہوتا ہے لیکن ہر مجدد خلیفہ نہیں ہوتا کیونکہ خلافت ایک بہت اونچا مقام ہے ایسے مجدد سے جو خلیفہ نہیں یعنی اس معنی میں جس کو ہم خلافت راشدہ کہتے ہیں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے خلفاء ہوں گے پھر بادشاہت شروع ہو جائے گی اور پھر آخری زمانے میں منہاج نبوت پر خلفا کا زمانہ آ جائے گا اور یہ کہ کر آپ خاموش ہو گئے جس کا مطلب یہ ہے کہ پھر اس کا سلسلہ قیامت تک چلے گا۔یہی مطلب ہم لیتے ہیں کیونکہ یہی مطلب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ” یہ ایک حقیقت ہے کہ منافق جب یہ کہتا ہے تو وہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کو گرا کر کہتا ہے کہ آپ علیہ السلام مجدد تھے اور صدی کے آخر میں ایک اور مجدد آئے گا لیکن سنو آپ علیہ السلام محض مجدد نہیں تھے (الفضل 21 مئی 1978ء) 115