مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 116 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 116

پ علیہ السلام مسیح بھی تھے، آپ علیہ السلام مہدی بھی تھے، آپ علیہ السلام امام آخر الزماں بھی تھے آپ علیہ السلام مجدد الف آخر بھی تھے، آپ علیہ السلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ محبوب بھی تھے اور خدا تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو فرمایا ہے کہ قیامت تک کا زمانہ تمہارا زمانہ ہے اس لئے کوئی شخص آپ علیہ السلام سے یہ زمانہ چھینے کے لیے تو نہیں آ سکتا البتہ آپ علیہ السلام کا خادم ہوکر آسکتا ہے مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کے جو خادم آئے ہیں وہ خلفائے سلسلہ حقہ احمدیہ ہیں، وہ حضرت مسیح موعود علیہ کے خادموں کے لشکر میں شامل ہو کر اور پھر مسیح موعود علیہ السلام اپنے ان تمام خدام کے لشکر کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں بطور ایک خادم کے کھڑے ہوئے ہیں۔اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَالِ الفضل 21 مئی 1978ء) السلام مُحَمَّدِ 66 خلافت رابعہ کے دور میں اٹھنے والا فتنہ اور اس کا انجام: خلافت رابعہ کے انتخاب کے وقت چند لوگوں نے فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالی نے فتنہ پردازوں کو نا کام کردیا۔اس کے بعد بعض اوقات مختلف جگہوں سے اس رنگ میں کوششیں کی گئیں کہ خلیفہ وقت کے متعلق لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں بد اعتمادی پیدا کی جائے اور اسی طرح یہ باتیں پھیلانے کی کوشش کی کہ خلیفہ وقت قریبی لوگوں کی باتوں میں آکر بعض دفعہ لوگوں کو سزائیں دے دیتے ہیں جو کہ نا انصافی پر مبنی ہوتی ہیں۔یہ طریق ایسا ہے کہ بعض دفعہ نیک اور معصوم لوگ اپنی سادگی کی وجہ سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے نہایت احسن طریق سے لوگوں کی اصلاح کی اوران کمزوریوں پر روشنی ڈالی تا کہ فتنہ پرداز کسی طرح کامیاب نہ ہو سکیں۔چنانچہ حضرت خلیفة امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ان امور پر میں کئی دفعہ خطبات دے چکا ہوں لیکن پھر بار بار یہ باتیں سامنے آتی ہیں کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں یہ معمولی باتیں ہیں کیا فرق پڑا اگر ہم نے چپکے سے فلاں کی بات سن لی؟ ساتھ ساتھ اپنی دانست میں خلیفہ وقت کی حفاظت بھی کر لی۔کہہ دیا کہ ہاں ہاں کسی کی باتوں میں آگیا ہو گا۔خود تو اپنی ذات میں شریف آدمی لگتا ہے خود تو جھوٹا اور غیر منصف نظر نہیں آتا اس لئے ضرور باتوں میں آگیا ہو گا یعنی غیر منصف بھی قرار دے دیا اور ساتھ ہی بے وقوف بھی قرار دے دیا۔اچھا دفاع کیا ہے خلیفہ وقت کا! یعنی پہلے تو صرف ظالم کہا تھا آپ نے کہا کہ ظالم صرف نہیں ہے، احمق بھی بڑا سخت ہے اس کو چغلیوں کی بھی عادت ہے یک طرفہ باتیں سنتا ہے اور فیصلے دیتا چلا جاتا ہے۔حسن ظنی میں میں کہتا ہوں کہ آپ نے اپنی طرف سے دفاع کیا لیکن یہ کیا دفاع ہے اس پر تو غالب کا یہ مصرع آپ پر صادق آتا ہے کہ: ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو اگر آپ نے خلافت کا ایسا ہی دفاع کرنا ہے، آپ کے یہی عزم تھے جب آپ نے عہد کئے تھے کہ ہم قیامت تک اپنی نسلوں کو بھی یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ تم نے خلافت احمدیہ کی حفاظت کرنی ہے اور اس کے لئے ہر چیز کی قربانی کے لئے تیار رہو گے اگر عہد سے آپ کی یہی مراد ہے تو یہ عہد مجھے نہیں چاہئے۔خلافت احمدیہ کو یہ عہد نہیں چاہئے کیونکہ اس قسم کی حفاظت نقصان پہنچانے والی ہے فائدہ پہنچانے والی نہیں ہے لیکن یہ صرف ایک خلافت کا معاملہ نہیں ہے سارے نظام اسلام کا معاملہ ہے تمام اسلامی قدروں کا معاملہ ہے۔ہم تو 116