مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 114 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 114

غرض جماعت میں فتنہ پیدا کرنا ہے۔“ اسی رؤیا کے حوالے سے مزید فرمایا کہ: رویا میں میں کہتا ہوں کہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا چاہے تم کتنے ہی چکر دے کر بات کرو۔ظاہر ہے کہ تم جماعت میں اس سے فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہو اور تمہاری غرض یہ ہے کہ میں بھی دنیا داروں کی طرح اپنے بیٹوں کی تعریف سن کر خوش ہو جاؤں گا اور اصل بات کی طرف میری توجہ نہیں پھرے گی۔پس رویا میں میں نے اس اشتہار پر اظہار نفرت کیا اور میں نے کہا کہ میں اس قسم کی باتوں کو پسند نہیں کرتا۔“ الفضل 22 جولائی 1950 ، صفحہ 4 پر حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ اس فتنے اور اس کی ابتدا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی عجیب حکمت ہے کہ جتنی گواہیاں ملی ہیں وہ بتاتی ہیں کہ یہ فتنہ اس وقت اٹھایا گیا تھا جب مجھ بیماری کا حملہ ہوا تھا 26 فروری 1955 ء کو مجھ پر بیماری کا حملہ ہوا تھا اور یہ باتیں مارچ1955 ء کی ہیں لیکن ظاہر ہوئیں 1956ء میں آکر اور اب میں ان کا ہر طرح مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔گویا وہی رویا والی بات ہوئی جو میں نے اس عورت سے کہی تھی کہ تم نے بے خبری میں مجھ پر حملہ کر لیا تھا اب میں با خبر ہو چکا ہوں اگر اب تم مجھ پر حملہ کرو تو جانوں! یہ کتنا بڑا نشان ہے جو ظاہر ہوا۔“ الفضل 8 اگست 1956ء صفحہ 3،2) چنانچہ جب ان لوگوں نے اپنی روش نہ بدلی تو ان کو اخراج از نظام جماعت کی سزا دی گئی اور اعلان کر دیا گیا کہ جب تک معافی نہ مانگیں انہیں نظام جماعت سے باہر تصور کیا جائے گا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے سفر یورپ سے واپس تشریف لا کر احباب جماعت کو ایک رؤیا سنائی جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا کہ ایک عورت آپ رضی اللہ عنہ پر مسمریزم کرتی ہے جس کا تھوڑا بہت اثر آپ محسوس کرتے ہیں لیکن آپ اس کی اس حرکت سے جب باخبر ہوتے ہیں تو اسے کہتے ہیں کہ : ”تو نے میری بے خبری کے عالم میں مجھ پر مسمریزم کا عمل کیا تھا اب مجھے خبر ہو چکی ہے اور اب میں تیرا مقابلہ کروں گا اب تو مجھ پر عمل کر کے دیکھ لے تو وہ نہیں کر سکتی۔“ خلافت ثالثہ کے دور میں اٹھنے والا فتنہ اور اس کا انجام: الفضل 8اگست 1956ء صفحہ 3،2) خلافت ثالثہ کے دور میں چونکہ نئی ہجری صدی شروع ہو رہی تھی اس لیے منافقین نے ایک حدیث کا غلط مفہوم لیتے ہوئے یہ کہنا شروع کر دیا کہ نئی صدی کے ساتھ مجدد بھی آنا چاہئے۔مقصد یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود کو صرف ایک مجدد ثا بت کر سکیں تا کہ مجدد کے بعد خلافت کی بیعت نہ کرنی پڑے اور اس طرح خلافت کی جگہ مجددیت کا بہانہ بناکر خلافت کی ضرورت ختم کر دی جائے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے خدائی تائید اور رہنمائی سے نہایت احسن طریق پر اس فتنے کا قلع قمع کیا۔مجددیت اور خلافت: 1977ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مختلف ممالک میں منعقد ہونے والے جلسہ ہائے سالانہ کے لئے پیغام بھجوائے چنانچہ جلسہ سالانہ قادیان پر آپ نے مندرجہ ذیل پیغام بھجوایا: ہم عنقریب پندرھویں صدی میں قدم رکھنے والے ہیں۔نئی صدی کے شروع ہونے کے ساتھ گزشتہ صدیوں کی 114