مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 76
ہے یا ہونا تھا، پس یہ خاموش ہونا بتاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد جو سلسلہ خلافت شروع ہونا یہ دائی ہے اور یہ الہی تقدیر ہے اور الہی تقدیر کو بدلنے پر کوئی فتنہ پرداز بلکہ کوئی شخص بھی قدرت نہیں رکھتا۔یہ قدرتِ ثانیہ یا خلافت کا نظام اب انشاء اللہ تعالیٰ قائم رہنا ہے اور اس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفا کے زمانہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر یہ مطلب لیا جائے کہ وہ تمہیں سال تھی تو وہ تمہیں سالہ دور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق تھا اور یہ دائی دور بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی پیشگوئی کے مطابق ہے۔66 خلافت کا یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا چلا جائے گا: (خطبہ جمعہ فرمودہ 27 مئی 2005ء - الفضل انٹر نیشنل 10 تا 16 جون 2005ء) خلافت کے ہمیشہ قائم رہنے کے بارے میں بیان کرتے ہوئے سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں، آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: یاد رہے کہ اگر چہ قرآن کریم میں اس قسم کی بہت سی آیتیں ایسی ہیں جو اس امت میں خلافت دائمی کی بشارت دیتی ہیں اور احادیث بھی اس بارہ میں بہت سی بھری پڑی ہیں لیکن بالفعل اس قدر لکھنا ان لوگوں کیلئے کافی ہے جو حقائق ثابت شدہ کو دولت عظمیٰ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں اور اسلام کی نسبت اس سے بڑھ کر اور کوئی بداندیشی نہیں کہ اس کو مردہ مذہب خیال کیا جائے اور اس کی برکات کو صرف قرنِ اوّل تک محدود رکھا جاوے۔“ پس اس کے بعد کوئی وجہ نہیں رہ جاتی کہ ہم ان بحثوں میں پڑیں کہ خلافت کب تک رہنی ہے اور کب ملوکیت میں بدل جاتی ہے؟ انشاء اللہ تعالیٰ نیک اعمال کرنے والے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے اور خلافت کا سلسلہ ہمیشہ چلتا چلا جائے گا جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی بداندیشی نہیں کہ اسلام کو مردہ مذہب خیال کیا جاوے اور برکات کو صرف قرنِ اوّل تک محدود رکھا جائے۔شروع سالوں تک جو اسلام کے ابتدائی سال تھے ان تک محدود رکھا جائے اسی طرح یہ بھی بداندیشی ہے کہ یہ کہا جائے کہ پہلی چار خلافتوں کے مقابل پر چار خلافتیں آگئیں اور بس! اللہ تعالیٰ میں صرف اتنی قدرت تھی کہ پہلی خلافتِ راشدہ کے عرصہ کو قریباً تین گنا کر کے خلافت کے انعام سے نوازے اور اس کے بعد اس کی طاقتیں ختم ہو گئیں۔اِنَّا لِلہ۔اور جیسا کہ میں حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباس سے دکھا آیا ہوں کہ اگر کسی کی ایسی سوچ ہے تو غلط ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔ہاں تم میں سے ہر ایک اپنے عملوں کی فکر کرے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 27 مئی2005 ء۔الفضل انٹر نیشنل 10 تا 16 جون 2005ء) 76 خلافت اور مجددیت: