مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 77
حدیث: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيْمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةٍ سَنَةٍ مَّنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا۔(ابو داؤد كتاب الملاحم باب مايذكر في قرن المائة) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی اس امت ہر صدی کے سر پر ایسا مجدد بھیجے گا جو اس امت کے دین کی تجدید کرے گا۔امام مہدی کے بعد مجددیت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا: کیلئے حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ (جو اپنی صدی کے مجدد تھے) نے سابقہ مجددین کے اسمائے گرامی کا ذکر کرتے ہوئے عیسی نبی اللہ کو ہی اس وقت کا مجدد قرار دیا ہے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وَاخِرُ الْمِئَتَيْنِ فِيهَا يَأْتِى عِيسَى نَبِيُّ اللهِ ذُو الْآيَاتِ يَجَدِدُ الدِّينَ لِهذِهِ الْأُمَّةِ وَبَعْدَهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُجَدِّدٍ یعنی مجددین کی آخری صدی میں عیسی نبی اللہ صاحب آیات و بینات جب تشریف لائیں گے تو وہی اس وقت امت محمدیہ کی تجدید کے لئے مجدد بھی ہوں گے اور امام مہدی مسیح موعود کے بعد کوئی مجدد باقی نہ (حج الکرامہ صفحہ 138 مصنفہ نواب صدیق حسن خان صاحب 1291ھ) ارشاد سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام : ساتواں ہزار ہدایت کا ہے جس میں ہم موجود ہیں۔چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لئے ضرور تھا کہ امام آخر الزمان اس کے سر پر پیدا ہو اور اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح مگر وہ جو اس کے لئے بطور ظل کے ہو کیونکہ اس ہزار میں اب دنیا کی عمر کا خاتمہ ہے جس پر تمام نبیوں نے شہادت دی ہے اور یہ امام جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کہلاتا ہے وہ مجدد صدی بھی ہے اور مجدد الف آخر بھی۔“ ارشاد سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ : لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 208) وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہمیشہ کچھ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصلی اور حقیقی مذہب اور تعلیم توحید کو قائم کرتے اور شرک و بدعات کا جو کبھی امتدادِ زمانہ کی اسلام میں راہ پا جاویں ان کا قلع قمع کرتے رہیں گے اور یہ ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی تعلیم و تربیت کا نمونہ ہمیشہ بعض ایسے لوگوں کے ذریعہ ظاہر ہوتا رہے جو امت مرحومہ میں ہر زمانہ میں موجود ہوا کریں۔چنانچہ قرآن شریف میں بھی بڑی صراحت سے اس بات کو الفاظ ذیل میں بیان کیا گیا ہے: وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمَنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُوْنَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ (سورة النور: 56) 77