مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 66
جو کبھی بھی ٹوٹنے والا نہ ہو۔غیر منقطع بابا نانک نے خود ہی ان الفاظ کی یوں تشریح کی ہے: دیبان جو ہے سو ابھگ لگے گا تٹنے کا کدے ناہی“ یعنی وہ ایک ایسا نظام ہو گا جو دائمی اور غیر منقطع ہو گا۔ارشاد حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ : خلافت راشدہ کے دو ادوار: ( گورو گرنتھ کوش۔صفحہ 64) (جنم ساکھی بھائی بالا۔صفحہ 527) (روز نامه الفضل 26 مئی 1959 صفحہ 16 مضمون نگار مکرم عباد اللہ کیانی صاحب) پس جیسا کہ کبھی کبھی دریائے رحمت سے کوئی موج سر بلند ہوتی ہے اور آئمہ ہدگی میں سے کسی امام کو ظاہر کرتی ہے ایسا ہی اللہ کی نعمت کمال تک پہنچتی ہے تو کسی کو تخت خلافت پر جلوہ افروز کر دیتی ہے اور وہی امام اس زمانے کا خلیفہ راشد ہے اور وہ جو حدیث میں وارد ہے کہ خلافتِ راشدہ کا زمانہ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمیں سال تک ہے اس کے بعد سلطنت ہو گی تو اس سے مراد یہ ہے کہ خلافت راشدہ متصل اور تواتر طریق پر تمیں سال تک رہے گی۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قیام قیامت تک خلافت راشدہ کا زمانہ وہی تمہیں سال ہے اور بس ! بلکہ حدیث مذکورہ کا مفہوم یہی ہے کہ خلافت راشدہ تمہیں سال گزرنے کے بعد منقطع ہو گی نہ یہ کہ اس کے بعد پھر خلافت راشدہ کبھی آ ہی نہیں سکتی بلکہ ایک دوسری حدیث خلافت راشدہ کے انقطاع کے بعد پھر عود کرنے پر دلالت کرتی ہے۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَاشَاءَ اللَّهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَاشَاءَ اللَّهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلَكًا عَاضًا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبُرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ اَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سكت نبوت تم میں رہے گی اللہ چاہے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھا لے گا اور بعدہ نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی جو اللہ کے منشا تک رہے گی پھر اسے بھی اللہ اٹھا لے گا، پھر بادشاہی ہو گی اور اسے بھی اللہ جب تک چاہے گا رکھے گا پھر اسے بھی اٹھا لے گا۔پھر سلطنت جابرانہ ہو گی جو منشائے باری تعالیٰ تک رہے گی پھر اسے بھی اٹھا لے گا اور اس کے بعد نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو گئے اور یہ بھی امر ظاہر ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی خلافت، خلافت راشدہ سے افضل انواع میں سے ہو گی یعنی وہ خلافت ”منتظمہ محفوظہ “ ہو گی۔منصب امامت از حضرت شاہ اسمعیل شہید - صفحہ- 117-118۔ناشر مگی دارالکتب اردو بازار لاہور 1994ء) سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: 66