مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 67 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 67

سو اے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خداتعالی دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔66 امت میں دائمی خلافت کا وعدہ: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: (الوصیت روحانی خزائن۔جلد نمبر 20 صفحہ 305-306) جس طرح قرآن مجید میں یہ آیت اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ ہے اسی طرح توریت میں بھی آیات ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ایک کامل اور جلالی کتاب دی گئی ہے جس کا نام توریت ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں بھی توریت کی یہی تعریف ہے لیکن باوجود اس کے بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تا ان کے موجودہ زمانہ میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں پھر ان کو توریت کے اصلی منشا کی طرف کھینچیں اور جن کے دلوں میں کچھ شکوک اور دہریت اور بے ایمانی ہو گئی ہو ان کو پھر زندہ ایمان بخشیں۔چنانچہ اللہ جَلَّ شَأْنُه خود قرآن کریم میں فرماتا ہے : وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِ هِ بِالرُّسُلِ - (سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِينَ : 45) یعنی موسیٰ کو ہم نے توریت دی اور پھر اس کتاب کے بعد ہم نے کئی پیغمبر بھیجے تا توریت کی تائید اور تصدیق کریں۔اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے: ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتَرًا - (سُورَةُ الْبَقَرَة: 88) یعنی پھر پیچھے سے ہم نے اپنے رسول پے در پے بھیجے۔پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنی کتاب بھیج کر پھر اس کی تائید اور تصدیق کے لئے ضرور انبیاء کو بھیجا کرتا ہے۔چنانچہ توریت کی تائید کے لئے ایک ایک وقت میں چار چار سونبی بھی آیا جن کے آنے پر اب تک بائبل شہادت دے رہی ہے۔اس کثرتِ اِرسَالِ رُسُلُ میں اصل بھید یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عہد مئوکد ہو چکا ہے کہ جو اس کی سچی کتاب کا انکار کرے تو اس کی سزا دائی جہنم ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے: وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَ كَذَّبُو إِبِايَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ - (سُورَةُ البَقَرَة (40) یعنی جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی وہ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔، جبکہ سزائے انکار کتاب الہی میں ایسی سخت تھی اور دوسری طرف یہ مسئلہ نبوت اور وحی الہی کا نہایت دقیق تھا بلکہ خود خدا تعالیٰ کا وجود بھی ایسا دقیق در دقیق تھا کہ جب تک انسان کی آنکھ خداداد نور سے منور نہ ہو ہرگز 67