مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 554 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 554

انداز نہ ہو سکے۔پس خدا تعالیٰ کی اطاعت، عبادت، فرمانبرداری، تذلل اور اس کی حب کے سامنے کوئی اور شے محبوب، مقصود، مطلوب اور مطاع نہ ہو۔“ (روز نامه الفضل ربوہ 25 جولائی 1993ء) حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد جب حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے پہلے جلسہ سالانہ پر 28 دسمبر 1914ء کو بطور خلیفہ اسیح الثانی جو تقریر ارشاد فرمائی اس میں بڑی تحدی کے ساتھ جماعت کو توحید الہی پر قائم ہونے اور شرک سے کلیۂ اجتناب کرنے کی تلقین کی۔چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں بڑے زور سے بتلاتا ہوں کہ دنیا میں لوگ خدا تعالیٰ سے غافل ہوگئے ہیں۔حالانکہ اس سے بڑھ کر خوبصورت، اس سے بڑھ کر محبت کرنے والا، اس سے بڑھ کر پیارا اور کوئی نہیں ہے۔تم لوگ اگر پیار کرو تو اس سے کرو، محبت لگاؤ تو اس سے لگاؤ، ڈرو تو اس سے ڈرو، خوف کرو تو اس سے کرو۔اگر وہ تمہیں حاصل ہو جائے تو پھر تمہیں کسی چیز کی پروا نہیں رہ جاتی اور کوئی روک تمہارے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔“ برکات خلافت صفحه 110) پھر خدا تعالی کی واحدانیت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صرف ایک ہی اللہ ہے۔اگر کوئی سمجھے کہ اس کو چھوڑ کر اور کسی کو تلاش کر لوں گا تو ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ ایک ہی ہے دو نہیں، چار نہیں اور ہزاروں لاکھوں نہیں۔جب ایک ہی اللہ ہے تو اس کو چھوڑ کر کہاں جاؤ گے؟“ دو برکات خلافت، صفحہ 111) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: یہ ایک دھوکا ہے کہ سلسلہ خلافت سے شرک پھیلتا ہے اور گدیوں کے قائم ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ آج سے ، تیرہ سو سال پہلے خدا تعالیٰ نے خود اس خیال کو رڈ فرما دیا ہے کیونکہ خلفا کی نسبت فرماتا ہے۔يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا - (النور: 56) خلفا میری ہی عبادت کیا کریں گے اور میرے سرہ خلفا میری ہی عبادت کیا کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں قرار دیں گے۔خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ ایک زمانہ میں خلافت پر یہ اعتراض کیا جائے گا کہ اس سے شرک کا اندیشہ ہے اور غیر مامور کی اطاعت جائز نہیں۔پس خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف میں ہی اس کا جواب دے دیا کہ خلافت شرک پھیلانے والی نہیں بلکہ اسے مٹانے والی ہو گی اور خلیفہ مشرک نہیں بلکہ موحد ہوں گے ورنہ آیت استخلاف میں شرک کے ذکر کا کوئی موقعہ نہ تھا۔“ (انوار العلوم جلد 2 صفحہ 14,13) ضرت خلیفہ لمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ، کامل تو کل علی اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ”خدا کی عجب شان ہے کہ جب 1971 ء کے شروع میں گھوڑے سے گرا اور علاج کے کئی مراحل سے مجھے گزرنا پڑا تو اس سے میرے گھٹنے اکٹر (Stiff) گئے۔ایک ڈاکٹر صاحب مجھے کہنے لگے کہ یہ تو اب ٹھیک ہو ہی نہیں سکتے۔میں نے کہا میں نے تمہیں خدا کب مانا ہے۔میں تو اللہ کو مانتا ہوں اور اس پر بھروسہ رکھتا ہوں جو ہے۔اس کے سامنے کوئی چیز انہونی نہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور یہ تکلیف دور ہو گئی۔قادر مطلق فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ (روز نامه الفضل ربوہ۔2 مارچ 1980ء) 554