مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 555 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 555

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ، کامل توکل علی اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں: " آج میں تم کو بتا تا ہوں کے مجھے دنیا کے کسی سہارے کی ضرورت نہیں اور اسی پر میرا تو کل ہے۔میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس صدی میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد صلالہ کا پیار قائم ہو گا۔“ خطاب جلسہ سالانہ 28 دسمبر 1980ء) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالٰی جب مند خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کے قیام کا مدعا ان الفاظ میں بیان فرمایا: خلافت کے قیام کا مدعا توحید کا قیام ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اہل۔ایسا کہ جو کبھی ٹل نہیں سکتا۔زائل نہیں ہو سکتا۔اس میں کوئی تبدیلی کبھی نہیں آئے گی۔۔۔۔۔۔خلافت کا انعام یعنی آخری پھل تمہیں یہ عطا کیا گیا ہے کہ میری عبادت کرو گے میرا کوئی شریک نہیں ٹھہراؤ گے۔کامل توحید کے ساتھ میری عبادت کرتے چلے جاؤ گے اور میری حمد وثنا کے گیت گایا کرو گے۔یہ وہ آخری جنت کا وعدہ ہے جو جماعت احمدیہ سے کیا گیا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 66 الفضل 22 جون 1982 ء) میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ نے جب توحید کا پیغام دنیا میں پہنچایا ہے تو یاد رکھیں کہ اس راہ میں تکلیفیں دی جائیں گی میں جانتا ہوں کہ اس زمانے میں توحید کے لئے جتنی جماعت احمدیہ نے قربانیاں دکھائی ہیں دنیا کے پردے پر توحید کے لئے دی جانے والی ساری قربانیاں ایک طرف کر دیں تو اس کے مقابلہ پر ان کی کوئی اہمیت نہیں۔اس زمانے میں توحید کے نام پر سوائے احمدیت کے کسی کو سزا نہیں دی جارہی۔۔۔۔خدا کی قسم! آج آپ ہی تو ہیں جو توحید کے لئے ایسی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔پس ہم توحید کے محض دعویدار نہیں ہیں، ہم تو حید کو اپنے اعمال میں جاری کر چکے ہیں۔آج ایک ہم ہی تو ہیں جو توحید کے نام پر ہر قسم کے ابتلا میں مبتلا کئے گئے اور ہر ابتلا سے ثابت قدم باہر نکلے ہیں۔اسی کا نام قدم صدق ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ جماعت احمدیہ کو قدم صدق عطا فرماتا رہے۔66 روزنامه الفضل ربوہ 20 نومبر 1993ء) خلفائے احمدیت نے اپنے پاک نمونے اور انفاخ قدسیہ سے احباب جماعت کے دلوں میں توحید کو قائم کیا اور عبادت الہی کے جو بابرکت بیج بودیئے ان کے نمونے افراد جماعت میں بکثرت نظر آتے ہیں۔چند مثالیں پیش ہیں: ایک دفعہ ایک نوجوان نے حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یورپ میں فجر کی نماز اپنے وقت پر ادا کرنا بہت مشکل ہے۔حضرت چودھری صاحب نے فرمایا: اگر چہ مجھے اپنی مثال پیش کرتے ہوئے سخت حجاب ہوتا ہے لیکن آپ کی تربیت کے لئے بتاتا ہوں کہ خدا کے فضل سے نصف صدی کا عرصہ یورپ میں گزارنے کے باوجود فجر تو فجر میں نے کبھی نماز تہجد بھی قضا نہیں کی۔یہی حال باقی پانچ نمازوں کا ہے۔الفضل 20 مارچ 2002 ء ) ایک دفعہ حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے کس عمر میں نماز با جماعت پڑھنا شروع کی تو فرمایا: ” نماز کے بارہ میں تو مجھے یاد نہیں البتہ تہجد کی نماز میں نے 15 سال کی عمر سے پڑھنا شروع کر دی تھی۔“ (سونیئر مجلس خدام الاحمدیہ مسلم 2005ء صفحہ 46) 555