مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 545
سوچو بلکہ جماعت کے بارہ میں سوچو۔اور اپنے ذاتی حقوق خود خوشی سے چھوڑو اور جماعتی حقوق کی ادائیگی کی کوشش کرو۔یہاں وہی مضمون ہے کہ اعلیٰ چیز کے لئے ادنی چیز کو قربان کرو۔پھر جو ہمارا عہدیدار یا امیر مقرر ہو گیا اب اس کی اطاعت تمہارا فرض ہے۔اس کی اطاعت کریں اور یہ سوال نہ اُٹھائیں کہ یہ کیوں بنایا گیا۔“ (خطبات مسرور جلد اول صفحه 264) حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد اپنے سب سے پیغام میں فرمایا: قدرت ثانیہ خدا کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے جس کا مقصد قوم کو متحد کرنا اور تفرقہ سے محفوظ رکھنا ہے۔وہ لڑی ہے جس میں جماعت موتیوں کی مانند پروئی ہوئی ہے۔اگر موتی بکھرے ہوں تو نہ تو محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہی خوبصورت اور محفوظ ہوتے ہیں۔اگر قدرت ثانیہ نہ ہو تو اسلام کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔پس اس قدرت کے ساتھ کامل اخلاص اور محبت اور وفا اور عقیدت کا تعلق رکھیں اور خلافت کی اطاعت کے جذبہ کو دائی بنائیں اور اس کے ساتھ محبت کے جذبہ کو اس قدر بڑھائیں کہ اس محبت کے بالمقابل دوسرے تمام رشتے کمتر نظر آئیں۔امام سے وابستگی میں ہی سب ہیں۔اور وہی آپ کے لئے ہر قسم کے فتنوں اور ابتلاؤں کے مقابلہ کے لئے ڈھال ہے۔۔پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہو جائیں۔اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ہماری ساری ترقیات کا دارو مدار خلافت سے وابستگی میں ہی پنہاں ہے۔“ برکتیں دو روز نامه الفضل ربوہ 30 مئی 2003ء) اپنے ایک پیغام میں حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے احباب جماعت سے فرمایا: یہ خلافت کی ہی نعمت ہے جو جماعت کی جان ہے۔اس لئے اگر آپ زندگی چاہتے ہیں تو خلافت احمدیہ کے ساتھ اخلاص اور وفا کے ساتھ چمٹ جائیں۔پوری طرح اس سے وابستہ ہو جائیں کہ آپ کی ہر ترقی کا راز خلافت سے وابستگی میں ہی مضمر ہے۔ایسے بن جائیں کہ خلیفہ وقت کی رضا آپ کی رضا ہو جائے۔خلیفہ وقت کے قدموں پر آپ کا قدم اور خلیفہ وقت کی خوشنودی آپ کا مطمع نظر ہو جائے۔“ (ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر مارچ اپریل 2004ء) حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک ہندو بٹالہ سے آپ (حضرت خلیفہ اُسیح الاول رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میری اہلیہ سخت بیمار ہے از راہ نوازش بٹالہ چل کر اسے دیکھ لیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت مرزا صاحب (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) سے اجازت حاصل کرو۔اس نے حضرت کی خدمت میں درخواست کی۔حضور علیہ السلام نے اجازت دی۔بعد نماز عصر جب حضرت مولوی صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تو حضور نے فرمایا کہ امید ہے آپ آج ہی واپس آ جائیں گے۔“ عرض کی بہت اچھا“۔بٹالہ پہنچے، مریضہ کو دیکھا، واپسی کا ارادہ کیا مگر بارش اس قدر ہوئی کہ جل تھل ایک ہو گئے۔ان لوگوں نے عرض کی کہ حضرت! راستے میں چوروں اور ڈاکوؤں کا بھی خطرہ ہے پھر بارش اس قدر زور سے ہوئی ہے کہ واپس پہنچنا مشکل ہے۔کئی مقامات پر پیدل پانی میں سے گزرنا پڑے گا مگر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خواہ کچھ ہو، سواری کا انتظام بھی ہو یا نہ ہو، میں پیدل چل کر بھی قادیان ضرور پہنچوں گا کیونکہ 545