مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 546
میرے آقا کا ارشاد یہی ہے کہ آج ہی مجھے واپس قادیان پہنچنا ہے۔خیر یکہ کا انتظام ہو گیا اور آپ چل پڑے مگر بارش کی وجہ سے راستہ میں کئی مقامات پر اس قدر پانی جمع ہو چکا تھا کہ آپ کو پیدل وہ پانی عبور کرنا پڑا۔کانٹوں سے آپ کے پاؤں زخمی ہو گئے مگر قادیان پہنچ گئے اور فجر کی نماز کے وقت مسجد مبارک میں حاضر ہو گئے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ ”کیا مولوی صاحب رات بٹالہ سے واپس تشریف لے آئے تھے؟ قبل اس کے کہ کوئی اور جواب دیتا آپ رضی اللہ عنہ فوراً آگے بڑھے اور عرض کی: ”حضور میں واپس آ گیا تھا۔“ یہ بالکل نہیں کہا کہ حضور! رات شدت کی بارش تھی، اکثر جگہ پیدل چلنے کی وجہ سے میرے پاؤں زخمی ہو چکے ہیں اور میں سخت ہو چکے ہیں اور میں سخت تکلیف اٹھا کر واپس پہنچا ہوں وغیرہ وغیرہ، بلکہ اپنی تکالیف کا ذکر تک نہیں کیا۔“ (حیات نور صفحہ 189) حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت صاحبزادہ سید عبدالطیف شہید رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ” اور مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ان کو جب اپنی پیروی اور اپنے دعویٰ کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایا کہ جس سے بڑھ کر انسان کیلئے ممکن نہیں۔جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے ایسا ہی میں نے ان کو اپنی محبت میں بھرا ہوا پایا، اور جیسا کہ ان کا چہرہ نورانی تھا ایسا ہی ان کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتا تھا۔اس بزرگ مرحوم میں نہایت قابل رشک یہ صفت تھی کہ در حقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتا تھا اور درحقیقت ان راستبازوں میں سے تھا جو خدا سے ڈر کر اپنے تقویٰ اور اطاعت الہی کو انتہا تک پہنچاتے ہیں اور خدا کے خوش کرنے کے لئے اور اس کی رضا حاصل کرنے کیلئے اپنی جان اور عزت اور مال کو ایک ناکارہ خس و خاشاک کی طرح اپنے ہاتھ سے چھوڑ دینے کو تیار ہوتے ہیں۔اس کی ایمانی قوت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ اگر میں اس کو ایک بڑے سے بڑے پہاڑ سے تشبیہ دوں تو میں ڈرتا ہوں کہ میری تشبیہ ناقص نہ ہو۔اکثر لوگ باوجود بیعت کے اور باوجود میرے دعوی کے تصدیق کے پھر بھی دنیا کو دین پر مقدم رکھنے کے زہریلے تم سے بکلی نجات نہیں پاتے بلکہ کچھ ملونی ان میں باقی رہ جاتی ہے۔اور ایک پوشیدہ بخل خواہ وہ جان کے متعلق ہو خواہ آبرو کے متعلق اور خواہ مال کے متعلق اور خواہ اخلاقی حالتوں کے متعلق ان کے نامکمل نفسوں میں پایا جاتا ہے۔اسی وجہ سے ان کی نسبت ہمیشہ میری یہ حالت رہتی ہے کہ میں ہمیشہ کسی خدمت دینی کو پیش کرنے کے وقت ڈرتا رہتا ہوں کہ ان کو ابتلا پیش نہ آوے۔اور اس خدمت کو اپنے پر ایک بوجھ سمجھ کر اپنی بیعت کو الوداع نہ کہہ دیں لیکن میں کن الفاظ سے اس بزرگ مرحوم کی تعریف کروں جس نے اپنے مال اور آبرو اور جان کو میری پیروی میں یوں پھینک دیا کہ جس طرح کوئی ردی چیز پھینک دی جاتی ہے۔اکثر لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ ان کا اوّل اور آخر برابر نہیں ہوتا۔“ (روحانی خزائن جلد نمبر 20 تذکرۃ الشہادتین - صفحه 10) منشی امام دین صاحب پٹواری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے 1894ء میں بیعت کی تھی انہیں حقہ پینے کی بہت عادت تھی۔حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلافت کے ابتدائی زمانے میں کسی خطاب میں حقہ کی مذمت بیان کی تو اسی وقت حقہ چھوڑ دیا اور عزم کیا کہ اب ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔شروع میں بیمار ہو گئے اور لوگوں نے کہا کہ آہستہ آہستہ چھوڑیں لیکن ایسی اطاعت کی کہ پھر ہاتھ بھی نہیں لگایا۔اصحاب احمد - جلد 1 - صفحہ 118) حضرت ابو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رئیس کھیوا باجوہ سیالکوٹ (جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیمی صحابہ میں شامل 546