مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 544 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 544

مشعل راہ جلد 3 صفحہ 335،334) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: آپ نے خلافت کی حفاظت کا جو وعدہ کیا ہوا ہے اس میں بھی یہ بات داخل ہے کہ خلافت کے مزاج کو نہ بگڑنے دیں۔خلافت کے مزاج کو بگاڑنے کی ہر گز کوشش نہ کریں۔ہمیشہ اس کے تابع رہیں ہر حالت میں امام کے پیچھے چلیں۔امام آپ کی رہنمائی کے لئے بنایا گیا ہے اس لئے کسی وقت بھی اس سے آگے نہ بڑھیں۔اللہ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور مجھے بھی توفیق عطا فرمائے کہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکوں۔“ (روزنامه الفضل 11 فروری 1984 ء) سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 11 مئی 2003ء کو احباب جماعت کے پیغام میں فرمایا: نام پس اس قدرت کے ساتھ کامل اخلاص اور محبت اور وفا اور عقیدت کا تعلق رکھیں اور خلافت کی اطاعت کے جذبہ کو دائمی بنائیں اور اس کے ساتھ محبت کے جذبہ کو اس قدر بڑھائیں کہ اس محبت کے بالمقابل دوسرے تمام رشتے کمتر نظر آئیں۔امام سے وابستگی میں ہی سب برکتیں ہیں اور وہی آپ کیلئے ہر قسم کے فتنوں اور ابتلاؤں کے مقابلہ کیلئے ایک ڈھال ہے۔66 خصوصی الفضل انٹر نیشنل 23 تا 30 مئی 2003 صفحہ 1) سید نا حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: آپ کے بعد چونکہ نظام خلافت قائم ہے اس لئے خلیفہ وقت کے احکامات کی ہدایات کی پیروی کرنا تمہارا کام ہے۔لیکن یہاں یہ خیال نہ رہے کہ خادم اور نوکر کا کام تو مجبوری ہے، خدمت کرنا ہی ہے۔خادم کبھی کبھی بڑ بڑا بھی لیتے ہیں اس لئے ہمیشہ ذہن میں رکھو کہ خادمانہ حالت ہی ہے لیکن اس سے بڑھ کر کیونکہ اللہ کی خاطر اخوت کا رشتہ بھی ہے اور اللہ کی خاطر اطاعت کا اقرار بھی ہے۔اور اس وجہ سے قربانی کا عہد بھی تو قربانی کا ثواب بھی اس وقت ملتا ہے جب انسان خوشی سے قربانی کر رہا ہوتا ہے۔تو یہ ایک ایسی شرط ہے جس آپ جتنا غور کرتے جائیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی محبت میں ڈوبتے چلے جائیں گے اور نظام جماعت کا پابند ہوتا ہوا اپنے آپ کو پائیں گے۔“ پر ہے۔خطبات مسرور جلد اول صفحه (325) سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: آنحضرت ملالہ سے زیادہ لوگوں کے حقوق کا خیال رکھنے والا کون تھا؟ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ حق کا نہ خیال رکھا جائے تب بھی ہم اطاعت کریں گے۔لیکن یہاں کچھ اصول بدل رہے ہیں۔حالانکہ تمام صحابہ اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ آپ حق سے بڑھ کر حق ادا کرنے والے تھے اور آپ کے متعلق تو یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ آپ کسی کے حق کا خیال رکھیں گے۔لیکن یہاں کیونکہ نظام جماعت کی بات ہو رہی ہے جس میں اس کے ماننے والوں کا اطاعت سے باہر رہنے کا ادنی سا تصور بھی برداشت نہیں ہو سکتا اس لئے یہ عہد لیا جا رہا ہے کہ ہم ہر حالت میں چاہے ہمارے حقوق کا نہ بھی خیال رکھا جا رہا ہو، ہم مکمل اطاعت اور فرمانبرداری کے جذبہ سے اس عہد بیعت کو نبھائیں گے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ آنحضرت ملالہ کا حق مار رہے ہیں بلکہ اب جب جماعتی زندگی کا معاملہ آئے گا تو حق کے معیار بدلنے چاہئیں۔اب تم اپنی ذات کے بارہ میں نہ 544