مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 538
جماعت کا ہر فرد جو اس سلسلہ میں منسلک ہے۔اس کا فرض ہے کہ امام کی طرف سے جو بھی آواز بلند ہو اس پر خود بھی عمل کرے اور دوسروں کو بھی عمل کرنے کی تحریک کرے اور چاہے صدر انجمن احمدیہ ہو یا کوئی اور انجمن حقیقی معنوں میں وہی انجمن سمجھی جا سکتی ہے جو خلیفہ وقت کے احکام کو ناقدری کی نگاہ سے نہ دیکھے بلکہ ان پر عمل کرے اور کرتی چلی جائے اور اس وقت تک آرام کا سانس نہ لے جب تک ایک چھوٹے سے چھوٹا حکم بھی ایسا موجود ہو جس پر عمل نہ کیا جاتا ہو۔پس ہر احمدی جس نے منافقت سے میری بیعت نہیں کی اور ہر احمدی جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہونا چاہتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ وقت کے احکام پر عمل کرنے اور دوسروں سے عمل کرانے کیلئے کھڑا ہو جائے۔ہمارا خدا زندہ ہے اور وہ کبھی مر نہیں سکتا۔اسی طرح میں کہتا ہوں جس نے خلیفہ وقت کی بیعت کی ہے اسے یاد رکھنا چاہئے کہ خلیفہ وقت کی بیعت کے بعد اس پر یہ فرض عائد ہو چکا ہے کہ وہ اس کے احکام کی اطاعت کرے۔“ (روزنامه الفضل 15 نومبر 1946ء) ہے جنگ اُحد میں درّہ کو چھوڑنے والے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر وہ لوگ محمد رسول کریم ملالہ کے پیچھے اسی طرح چلتے جس طرح نبض حرکت قلب کے پیچھے چلتی ہے۔اگر وہ سمجھتے کہ رسول کریم صل اللہ کے ایک حکم کے نتیجہ میں اگر ساری دنیا کو بھی اپنی جانیں قربان کرنی پڑتی ہیں تو وہ حقیقت شے ہیں۔اگر وہ ذاتی اجتہاد سے کام لے کر اس پہاڑی درہ کو نہ چھوڑتے جس پر رسول کریم حلقہ نے انہیں اس ہدایت کے ساتھ کھڑا کیا تھا کہ خواہ ہم فتح حاصل کریں یا مارے جائیں تم نے اس مقام سے نہیں ہلنا تو نہ دشمن کو دوبارہ حملہ کرنے کا موقع نہ ملتا اور نہ آنحضرت صل اللہ اور آپ ملالہ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو کوئی نقصان پہنچتا۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ وہ لوگ جو محمد رسول کریم متعلقہ کے احکام کی پوری اطاعت نہیں بجا لاتے اور ذاتی اجتہادات کو آپ کے احکام پر مقدم سمجھتے ہیں۔انہیں ڈرنا چاہئے کہ اس کے نتیجہ میں کہیں ان پر کوئی آفت نہ آجائے یا وہ کسی شدید عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں۔گویا بتایا کہ اگر کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہارا کام یہ ہے کہ تم ایک ہاتھ کے اٹھنے پر اٹھو اور ایک ہاتھ کے گرنے پر بیٹھ جاؤ“ ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 410 تا412) حضرت خلیفة لمسیح الثانی رضی اللہ عنہ جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پس میں نوجوانوں کو کہتا ہوں کہ وہ دین کی خدمت کے لئے آگے آئیں اور صرف آگے ہی نہیں بلکہ اس ارادہ سے آگے آئیں کہ انہوں نے کام کرنا ہے۔گو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نوجوان آدمی تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کی جگہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو کمانڈر انچیف مقرر کر دیا۔اس وقت حضرت خالد بن ولید کی پوزیشن ایسی تھی کہ حضرت عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ اس وقت ان سے کمانڈر لینا مناسب نہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اپنی برطرفی کا کسی طرح علم و گیا۔وہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے پاس میری برطرفی کا آیا ہے لیکن آپ نے ابھی تک اس حکم کو نافذ نہیں کیا۔حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا: خالد تم نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔اب بھی تم خدمت کرتے چلے جاؤ۔خالد رضی اللہ عنہ نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن خلیفہ وقت کا حکم ماننا بھی ضروری ہے۔آپ مجھے برطرف کر دیں اور کمانڈر انچیف کا عہدہ خود ہو 538