مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 537 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 537

اقرار کر چکے تو پھر انہیں امام کے منہ کی طرف دیکھتے رہنا چاہئے کہ وہ کیا کہتا ہے اور اس کے قدم اٹھانے کے بعد اپنا قدم اٹھانا چاہئے اور افراد کو کبھی بھی ایسے کاموں میں حصہ نہیں لینا چاہئے جن کے نتائج ساری جماعت پر آ کر پڑتے ہوں پھر امام کی ضرورت اور حاجت ہی نہیں رہتی۔۔۔۔۔امام کا مقام تو یہ ہے کہ وہ حکم دے اور مومن کا مقام یہ ہے کہ وہ پابندی کرے۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الفضل 5 جون 1937ء صفحہ 2،1) تم سب امام کے اشارے پر چلو اور اس کی ہدایت سے ذرہ بھر بھی ادھر اُدھر نہ ہو۔جب وہ حکم دے بڑھو اور جب وہ حکم دے ٹھہر جاؤ اور جدھر بڑھنے کا حکم دے اُدھر بڑھو اور جدھر سے ہٹنے کا حکم دے اُدھر سے ہٹ انور العلوم جلد 14 صفحہ 516،515) جاؤ۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اے دوستو! بیدار ہو اور اپنے مقام کو سمجھو اور اس کی اطاعت کا نمونہ دکھاؤ جس کی مثال دنیا کے پردہ پر کسی اور جگہ پر نہ ملتی ہو اور کم سے کم آئندہ کے لئے کوشش کرو کہ سو (100) میں سے سو ہی کامل فرمانبرداری کا نمونہ دکھائیں اور اس ڈھال سے باہر کسی کا جسم نہ ہو جسے خدا تعالیٰ نے تمہاری حفاظت کیلئے مقرر کیا ہے اور الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ پر ایسا عمل کرو کہ محمد رسول کریم متعلقہ کی روح تم سے خوش ہو جائے۔“ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: (انور العلوم جلد 14 صفحہ 525) ” خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں، تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ کہ اب وہی سکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں نا کام ہیں۔“ وو ، (خطبہ جمعہ 24 جنوری 1936 ء مندرجہ الفضل 31 جنوری 1936 ء صفحہ 9) رت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: یاد رکھو ایمان کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔۔۔۔۔۔۔ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لاتا ہوں۔ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں احمدیت پر ایمان رکھتا ہوں۔خدا کے حضور اس کے ان دعووں کی کوئی قیمت نہیں ہو گی جب تک وہ اس شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیتا جس کے ذریعہ خدا اس زمانہ میں اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔جب تک جماعت کا ہر شخص پاگلوں کی طرح اس کی اطاعت نہیں کرتا اور جب تک اس کی اطاعت میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ بسر نہیں کرتا اس وقت تک وہ کسی قسم کی فضیلت اور بڑائی کا حقدار نہیں ہو سکتا۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الفضل 15 نومبر 1946 ء صفحہ 6) 537