مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 536 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 536

" کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھا دینا اور یا پھر بیعت لے لینا ہے۔یہ کام تو ایک ملاں بھی کر سکتا ہے اس کے لئے کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں اور میں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں۔بیعت وہ ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے۔“ حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: الفرقان خلافت نمبر مئی ، جون 1967 ء - صفحہ 28) ”ایک شہد کی مکھی سے انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے وہ کیسی دانائی سے گھر بناتی ہے، شہد بناتی ہے۔۔۔۔۔بدبودار چیز پر بھی نہیں بیٹھتی پھر اپنے امیر کی مطیع ہوتی ہے۔“ علیہ ( حقائق الفرقان جلد 2 صفحہ 68) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ پیشگوئی مصلح موعود کو اپنے اوپر چسپاں کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں اس موقع پر جہاں آپ لوگوں کو یہ بشارت دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود یہ السلام کی اس پیشگوئی کو پورا کر دیا جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتی تھی۔وہاں میں آپ لوگوں کو ان ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں جو آپ لوگوں پر عائد ہوتی ہیں۔آپ لوگ جو میرے اس اعلان کے مصدق ہیں۔آپ کا اولین فرض یہ ہے کہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک اسلام اور احمدیت کی فتح اور کامیابی کے لئے بہانے کو تیار ہو جائیں۔بیشک آپ لوگ خوش ہو سکتے ہیں کہ خدا نے اس پیشگوئی کو پورا کیا بلکہ میں کہتا ہوں۔آپ کو یقیناً خوش ہونا چاہئے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود لکھا ہے کہ تم خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی۔پس میں تمہیں خوش ہونے سے نہیں روکتا۔میں تمہیں اچھلنے اور کودنے سے نہیں روکتا۔بیشک تم خوشیاں مناؤ اور خوشی سے اُچھلو اور گو دو لیکن میں کہتا ہوں اس خوشی اور اُچھل کود میں تم اپنی ذمہ داریوں کو فراموش مت کرو۔جس طرح خدا نے مجھے رویا میں دکھایا تھا کہ میں تیزی کے ساتھ بھاگتا چلا جا رہا ہوں اور زمین میرے پیروں کے نیچے سمٹتی جا رہی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے الہاماً میرے متعلق یہ خبر دی ہے کہ میں جلد جلد بڑھوں گا۔پس میرے لئے یہی مقدر ہے کہ میں سُرعت اور تیزی کے ساتھ اپنا قدم ترقیات کے میدان میں بڑھاتا چلا جاؤں گا مگر اس کے ساتھ ہی آپ لوگوں پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنے قدم تیز کریں اور اپنی سُست روی کو ترک کر دیں۔مبارک ہے وہ جو میرے قدم کے ساتھ اپنے قدم کو ملاتا اور سرعت کے ساتھ ترقیات کے میدان میں دوڑتا چلا جاتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ رحم کرے اس شخص پر جو سستی اور غفلت سے کام لے اپنے قدم کو تیز نہیں کرتا اور میدان میں آگے بڑھنے کی بجائے منافقوں کی طرح اپنے قدم کو پیچھے ہٹا لیتا ہے۔اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو، اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر سمجھتے ہو تو قدم بہ قدم اور شانہ بہ شانہ میرے ساتھ بڑھتے چلے آؤ تاکہ ہم کفر کے قلب میں محمد رسول اللہ متعلقہ کا جھنڈا گاڑ دیں اور باطل کو ہمیشہ کیلئے صفحہ عالم سے نیست و نابود کر دیں۔اور انشاء اللہ ایسا ہی ہو گا۔زمین اور آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی باتیں کبھی ٹل نہیں سکتیں۔“ تقریر حضرت مصلح موعود الموعود"۔صفحہ 214 215 216) خلافت کے بعد مبایعین کی ذمہ داریاں بیان فرماتے ہوئے سیدنا المصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”جو جماعتیں منظم ہوتی ہیں ان پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور کچھ شرائط کی پابندی کرنی ان کے لئے لازمی ہوتی ہے جن کے بغیر ان کے کام کبھی بھی صحیح طور پر نہیں چل سکتے۔۔۔۔۔ان شرائط اور ذمہ داریوں میں سے ایک اہم شرط اور ذمہ داری یہ ہے کہ جب وہ ایک امام کے ہاتھ پر بیعت کر چکے اور اس کی اطاعت کا 536