مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 535 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 535

ر۔۔۔۔۔اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے۔بدوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی اور ہوائے ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے مؤحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیسا فضل تھا اور وہ کس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں فنا شدہ قوم تھی۔یہ سچی بات ہے کہ کوئی قوم، قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کر۔اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اس میں یہی تو ستر ہے۔اللہ تعالیٰ توحید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے۔پیغمبر خدا متعلقہ کے زمانہ میں صحابہ بڑے بڑے اہل الرائے تھے۔خدا نے ان کی بناوٹ ایسی ہی رکھی تھی۔وہ اصول سیاست سے بھی خوب واقف تھے کیونکہ آخر جب حضرت ابو بکر صدیق رضی الہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام خلیفہ ہوئے اور ان میں سلطنت آئی تو انہوں نے جس خوبی اور انتظام کے ساتھ سلطنت کے بار گراں کو سنبھالا ہے اس سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ اُن میں اہل الرائے ہونے کی کیسی قابلیت تھی مگر رسول کریم ملک اللہ کے حضور ان کا یہ حال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمایا اپنی تمام راؤں اور دانشوں کو اس کے سامنے حقیر سمجھا اور جو کچھ پیغمبر خدا نے فرمایا اسی کو واجب العمل قرار دیا۔۔۔۔۔۔ناسمجھ مخالفوں نے کہا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا یا گیا مگر میں کہتا ہوں یہ صحیح نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہو کر بہہ نکلی تھیں۔یہ اس اطاعت اور اتحاد کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے دوسرے دلوں کو تسخیر کر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔جو مسیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزور کھتے ہو اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرو۔اطاعت ہو تو ویسی ہو۔باہم محبت اور اخوت ہو تو ویسی ہو۔غرض ہر رنگ میں، ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کرو جو صحابہ کی تھی۔‘“ 66 جہاں ( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 2 صفحہ 246 تا 248 تفسیر سورۃ النساء زیر آیت 60) حضرت خلیفۃ المسح الاول رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: آخر میں ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں اور یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اعتصام حبل اللہ کے ساتھ ہو۔قرآن تمہارا دستور العمل ہو۔باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضان الہی کو روکتا موسیٰ علیہ السلام کی قوم جنگل میں اسی نقص کی وجہ سے ہلاک ہو ئی۔رسول کریم ملالہ کی قوم نے احتیاط کی اور وہ کامیاب ہو گئے۔اب تیسری مرتبہ تمہاری باری آئی ہے اس لئے چاہئے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میت غستال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ۔اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔استغفار کثرت سے کرو اور دعاؤں میں لگے رہو۔وحدت کو ہاتھ سے نہ دو۔دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کوتاہی نہ کرو۔تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آسکتا۔پس اس نعمت کا شکر کرو۔کیونکہ شکر کرنے پر از دیا دنعمت ہوتا ہے۔لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمُ (ابراہیم 8) لیکن جو شکر نہیں کرتا وہ یاد رکھے۔اِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ - (ابراہیم (8)۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: (خطبات نور صفحه 131) 535