مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 512 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 512

حضرت خلیفة أمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1967ء کی مجلس مشاورت کے افتتاحی خطاب کے دوران فرمایا: ”آپ یہاں کسی ذاتی غرض کے لئے جمع نہیں ہوئے بلکہ اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ آپ اپنی نفسانی خواہشات کو بھلا کر اور طبیعت کے میلان اور رجحان کو پیچھے چھوڑ کر دیانتداری کے ساتھ اور خلوص کے ساتھ اور دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد جذب کرتے ہوئے ان معاملات کے متعلق خلیفہ وقت کو مشورہ دیں جو اس وقت آپ کے سامنے ایجنڈا کے طور پر رکھے جائیں گے۔“ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (رپورٹ مجلس مشاورت 1967 ءصفحہ 5 و 6 افتتاحی خطاب) ”ہمارے کام کی اور ہماری ذمہ داریوں کی شکل بدل رہی ہے۔بدل چکی بھی ہے اور بدل رہی بھی ہے۔اس واسطے یہ چیز کہ Routine کے مطابق ہماری مشاورت یہاں آکر بیٹھے، باتیں کرے اور چلی جائے اس کا دنیا کو کوئی فائدہ نہیں۔آپ نے دنیا کے مسائل کو حل کرنا ہے۔اس کے متعلق سوچیں اور اصل میں تو خدا نے آپ کو Base بنا دیا ہے۔“ 66 (رپورٹ مجلس مشاورت 1977 ء غیر مطبوعہ صفحہ 19 بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 23 فروری 2001 صفحہ 3) حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مجلس (شوری) ساری دنیا کے لئے نمونہ ہے۔ہم اتنے اہم مشورے کے لئے جمع ہوں اور پھر غیر محتاط الفاظ ہمارے منہ سے نکل جائیں، یہ ہمیں زیب نہیں دیتا۔ترقی کرنے والی قوموں کی زندگی مسلسل غور و فکر اور عزم میں گزرتی ہے۔ایک وقت ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص یا قوم پوری طرح فکر اور تدبر کرنے کے بعد کسی نتیجہ پر پہنچتی ہے اور اس پر وہ عمل کرتی ہے۔ہمیں قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے کہ ایک وقت تم پر ایسا آتا ہے جب تم شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ پر عمل کر رہے ہوتے ہو۔تم جماعت کی ترقی، اسلام کی ترقی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے کے لئے باہم مشورہ کر رہے ہوتے ہو۔پھر ایک وقت ایسا ہوتا ہے جب تم فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللہ پر عمل کر رہے ہوتے ہو۔یعنی کسی پختہ نتیجہ تک پہنچ جاتے ہو اور پھر تم اپنے وسائل کی طرف نظر نہیں کرتے بلکہ اس نتیجہ پر پہنچنے کے بعد خواہ وسائل تھوڑے ہوں خواہ زیادہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے میدان عمل میں قدم رکھ دیتے ہو اور اس کے بعد تم ایک قدم پیچھے نہیں ہٹتے۔“ قیام (رپورٹ مجلس مشاورت 1966 ءصفحہ 80,79 ) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”جماعت احمدیہ کی تربیت کے لئے مجلس شوری بہت ہی اہم کردار ادا کرتی ہے۔اس کی شخصیت کو زندہ رکھنے کے لئے، اس کی صلاحیتوں کی حفاظت کے لئے یہ نظام بہت ضروری اور بہت ہی اہم کام کرنے والا ہے۔چنانچہ جتنے یورپ کے ممالک میں اور دوسرے ممالک میں بھی جن میں مجلس شوری قائم ہو چکی ہے وہاں سے اطلاعیں مجھے ملتی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جماعت میں ایک بالکل نئی زندگی، نئی تازگی اور نیا اعتماد پیدا ہو گیا ہے اور ترقی کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے۔“ ہوئے فرمایا: (خطاب 9/ ستمبر 1922 ء بمقام برسلز صفحه 2 ) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالٰی نے 9 ستمبر 1992ء کو بلیجیم (Belgium) کی مجلس شوری سے خطاب کرتے در مجلس شوری کا نظام جماعت کی زندگی کے لئے بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔آج سے آٹھ دس سال پہلے مجلس 512