مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 511 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 511

میں جو امور صحیح ہوں وہ لے لیے جائیں گے ایک آدمی اتنی تجاویز نہیں سوچ سکتا۔ایک وقت میں بہت سے آدمی ایک امر پر سوچیں گے تو انشاء اللہ کوئی مفید راہ نکل آئے گی۔پھر مشورہ سے یہ بھی غرض ہے کہ تمہاری دماغی طاقتیں ضائع نہ ہوں بلکہ قومی کاموں میں مل کر غور کرنے اور سوچنے اور کام کرنے کی طاقت تم میں پیدا ہو۔پھر ایک اور بات ہے کہ اس قسم کے مشوروں سے آئندہ لوگ خلافت کے لیے تیار ہوتے رہتے ہیں۔اگر خلیفہ لوگوں سے مشورہ ہی نہ لے تو نتیجہ یہ نکلے کہ قوم میں کوئی دانا انسان ہی نہ رہے اور دوسرا خلیفہ احمق ہی ہو کیونکہ اسے کبھی کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ہماری پچھلی جماعتوں میں یہی نقص تھا۔شاہی خاندان کے لوگوں کو مشورہ میں شامل نہ کیا جاتا تھا جس کا نتیجہ یہ ہو تا کہ ان کے دماغ مشکلات حل کرنے کے عادی نہ ہوتے تھے اور حکومت رفتہ رفتہ تباہ ہو جاتی تھی۔پس مشورہ لینے سے یہ بھی غرض ہے کہ قابل دماغوں کی رفتہ رفتہ تربیت ہو سکے تاکہ ایک وقت وہ کام سنبھال سکیں۔جب لوگوں سے مشورہ لیا جاتا ہے تو لوگوں کو سوچنے کا موقع ملتا ہے اور اس سے ان کی استعدادوں میں ترقی ہوتی ہے۔ایسے مشوروں میں یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کو اپنی رائے کے چھوڑنے میں آسانی ہوتی اور طبیعتوں ہے میں ضد اور ہٹ نہیں پیدا ہوتی۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے شوری کے فوائد بیان کرتے ہوئے فرمایا: اب میں شوری کے فوائد بیان کرتا ہوں۔-1 -2 -3 -4 _5 منصب خلافت۔انوار العلوم جلد 2 صفحہ 60 ) کئی نئی تجاویز سوجھ جاتی ہیں۔مقابلہ کا خیال نہیں ہوتا اس لیے لوگ صحیح رائے قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بھی فائدہ ہے کہ باتوں باتوں میں کئی باتیں اور طریق معلوم ہو جاتے ہیں۔یہ بھی فائدہ ہے کہ باہر کے لوگوں کو کام کرنے کی مشکلات معلوم ہوتی ہیں۔یہ بھی فائدہ ہے کہ خلیفہ کے کام میں سہولت ہو ولت ہو جاتی ہے۔وہ بھی انسان ہوتا ہے اس کو بھی دھوکا دیا ہے۔اس طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ لوگوں کا رجحان کدھر ہے۔یوں تو بہت نگرانی کرنی پڑتی ہے کہ غلط راستہ پر نہ پڑ جائیں۔مگر جب شوری ہو تو جب تک اعلیٰ درجہ کے دلائل عام رائے کے خلاف نہ ہوں لوگ ڈرتے ہیں کہ اس پر عمل کریں اور اس طرح خلیفہ کی نگرانی میں سہولت ہو جاتی ہے۔“ جاسکتا رپورٹ مجلس مشاورت 1922 ، صفحہ 16 ) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مجلس مشاورت کی ضرورت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”سب سے پہلے میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مجلس جس کو پرانے نام کی وجہ سے کارکن کانفرنس کے نام سے یاد کرتے رہے ہیں کیا چیز ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا شیوہ یہ ہے کہ اَمرُهُم شُوری بَيْنَهُمُ اپنے معاملات میں مشورہ لے لیا کریں۔مشورہ بہت مفید اور ضروری چیز ہے اور بغیر اس کے کوئی کام مکمل نہیں ہو سکتا۔اس مجلس کی غرض کے متعلق مختصر الفاظ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسی اغراض جن کا جماعت کے قیام اور ترقی سے گہرا تعلق ہے ان کے متعلق جماعت کے لوگوں کو جمع کر کے مشورہ لیا جائے، تاکہ کام میں آسانی پیدا ہو جائے یا ان احباب کو ان ضروریات کا پتہ لگے جو جماعت سے لگی ہوئی ہیں تو یہ مجلس شوری ہے۔ص رپورٹ مجلس مشاورت 1922 ، صفحہ 4 ) 511