مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 513 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 513

شوری کا نظام مرکزی طور پر جماعت میں تو قائم تھا اور وہیں بین الاقوامی مجلس شوریٰ کا بھی جلسے کے بعد انعقاد کر دیا جایا کرتا تھا یا مجلس شوریٰ میں بین الاقوامی تجاویز آجایا کرتی تھیں لیکن ہر ملک کی مجلس شوری کا رواج نہیں تھا۔تو میں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ قرآن کریم نے مجلس شوری پر غیر معمولی زور دیا ہے اور اسلامی نظام خلافت کے بعد یہ سب سے زیادہ اہم ادارہ ہے جس سے جماعت کی تربیت ہوتی ہے اسے ہر ملک میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جب سے پورپ اور مغرب اور افریقہ اور بعض دیگر مشرقی ممالک میں شوریٰ کا نظام جاری کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ غیر معمولی طور پر جماعت میں صحت اور توانائی کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔بہت سے فوائد کے علاوہ ایک تو مجلس شوری میں شامل ہونے سے نظام جماعت کی ذمہ داری کے ساتھ براہ راست وابستہ ہونے کی توفیق ملتی ہے۔ہر ممبر جو مجلس شوری کا ممبر بن کر تجاویز پر غور کرنے کے لئے مجلس شوری میں شمولیت کرتا ہے اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک بہت اہم ادارہ ہے جس میں اس نے حصہ ڈالا ہے اور اس کے ذریعہ ساری جماعت کی نمائندگی ہو جاتی ہے۔“ (خطاب فرموده 9 ستمبر 1992 ء بمقام برسلز بلجیم قلمی بر موقع شوری بحواله الفضل انٹرنیشنل 16 فروری 2001 ء صفحہ 3 ) ضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: پس میں امید رکھتا ہوں کہ تمام دنیا میں مجالس شوری انہی نصیحتوں کو پیش نظر رکھ کر جاری رہیں گی اور جاری جائیں گی۔اور اعلیٰ اخلاق کی حفاظت کی جائے گی۔کوئی بات اس طریقے پر نہیں کی جائے گی جس میں کسی کا یا اپنے بھائی کی دل آزاری کا عنصر ہو۔اور اگر کوئی سادگی یا نادانی یا ناتجربہ کاری سے ایسی بات تو حوصلے کے ساتھ سن کر اسے سمجھانے کی ضرورت ہے بجائے اس کے کہ جواباً آپ بھی پتھر ہے پتھر ماریں اور سارا ماحول پراگندہ ہو جائے۔پس میں امید رکھتا ہوں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ جو بہت ہی عظیم الشان نظام شوری خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے دوبارہ ہمیں عطا کیا ہے یہ اتنا قیمتی نظام ہے کہ اس کی خاطر ہر بڑی سے بڑی قربانی بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔حضرت کا دیتا 66 (خطبه جمعه فرموده 29 اپریل 1994 ء) سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: مشورہ لینے کا فائدہ ہوتا ہے۔کیونکہ مختلف ماحول کے، مختلف قوموں کے، مختلف معاشرتی حالات کے لوگ، زیادہ اور کم پڑھے لکھے لوگ مشورہ دے رہے ہوتے ہیں پھر آج کل جب جماعت پھیل گئی ہے؟ ہے، مختلف ملکوں سے ان کے حالات کے مطابق مشورے پہنچ رہے ہوتے ہیں تو خلیفہ وقت کو ان ملکوں میں عمومی کے لحاظ حالات اور جماعت کے معیار زندگی اور جماعت کے دینی روحانی معیار اور ان کی سوچوں کے بارے میں علم ہو جاتا ہے ان مشوروں کی وجہ سے۔اور پھر جو بھی سکیم یا لائحہ عمل بنانا ہو اس کو بنانے میں مدد ملتی ہے۔غرض کہ اگر ملکوں کی شوری کے بعض مشورے ان کی اصلی حالت میں نہ بھی مانے جائیں تب بھی خلیفہ وقت کو دیکھنے اور سننے سے بہر حال ان کو فائدہ ہوتا ہے۔مشورہ دینے والے کا بہر حال یہ فرض بنتا ہے کہ نیک نیتی سے مشورہ دے اور خلیفہ وقت کا یہ حق بھی ہے اور فرض بھی ہے کہ وہ جماعت سے مشورہ لے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو فرمایا کرتے تھے کہ لَا خِلَافَةَ إِلَّا عَنْ مَّشْوَرَةٍ“ کہ خلافت کا انعقاد مشورہ اور رائے لینے کے بغیر درست نہیں۔اور یہ بھی کہ خلافت کے نظام کا ایک اہم ستون مشاورت ہی ہے۔(کنز العمال كتاب الخلافة جلد 3 صفحه 139 ) تو جماعتی ترقی کے لئے اور کامیابیاں حاصل کرنے کے لئے ایک انتہائی اہم چیز ہے، جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کیونکہ قوم کی مشترکہ کوششیں ہوں تو پھر کامیابی کی راہیں کھلتی جاتی ہیں۔“ 66 513