مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 510 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 510

شوری کے اغراض و مقاصد کے بارہ میں خلفائے سلسلہ احمدیہ کے ارشادات، فرمودات اور ہدایات: حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " قرآن شریف کا حکم ہے کہ اَمرُهُمْ شُوری بَيْنَهُمْ مشورہ کرنا ایسا پاک اصول ہے کہ اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور برکت عطا ہوتی 66 (الحكم 10 / اپریل 1908 ء صفحہ 6 - حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 549 ) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مجلس مشاورت کے اغراض و مقاصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالٰی نے اپنے فضل سے ہمیں پھر توفیق دی کہ ہم ساری دنیا سے اختلاف رکھتے ہوئے آج اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ باقی دنیا کو جو اپنی مادی ترقی کے لیے مشورے کرتی اور دنیوی ترقی کے لیے اپنے دماغوں کو خرچ کرتی ہے دین کی دعوت دیں اور روحانیت کی طرف متوجہ کریں۔باقی دنیا صرف دنیا کے لیے جد و جہد کر رہی ہے لیکن ہم خدا کے فضل سے اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ وہ نور وہ ہدایت اور وہ صداقت جو اللہ تعالیٰ نے دنیا ہدایت کے لیے بھیجی ہے اس کی ترقی کے لیے کوشش کریں، اس کی اشاعت کے لیے غور کریں اور اسے پھیلانے کے لیے تجاویز سوچیں اور ان کے ضمن میں جو مادی، تمدنی اور سیاسی باتیں پیدا ہوں ان پر غور کریں۔لیکن اس لیے نہیں کہ اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کریں بلکہ اس لیے کہ ساری دنیا کو فائدہ پہنچائیں کیونکہ کوئی نبی کی جماعت ایسی نہیں ہو سکتی جس کے کسی کام کی غرض محض اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا ہو بلکہ اس کی ہر کوشش اور ہر کام کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔دوسروں کی مشکلات کو دور کرے اور دوسروں کی بہتری اور بھلائی مدنظر رکھے۔پس ہم بھی اگر نبی کی جماعت بننا چاہتے ہیں تو ہماری تمام کوششیں اور تدبیریں ایسی ہونی چاہئیں کہ ان سے سب دنیا کو فائدہ پہنچے۔قطع نظر اس کے کہ کوئی احمدی ہو یا غیر احمدی، مسلم ہو یا غیر مسلم۔سب کی خدمت اور سب کی بھلائی ہمارا فرض ہے کیونکہ مومن سب دنیا کا خدمت گزار ہوتا ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ جب دوسرے لوگ اس لیے جلسے کرتے ہیں کہ چھینا جھپٹی کر کے خود فائدہ اٹھا ئیں۔ہم اس لیے جمع ہوتے ہیں کہ دنیا میں امن قائم کریں۔راستی اور انصاف پر دنیا کو کار بند کریں۔پس ساری دنیا ہماری مخاطب ہے اور ہم ساری دنیا کی خدمت کرنے والے ہیں۔اور یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رپورٹ مجلس مشاورت 1930 ء صفحہ 2,1 ) میں پھر ایک دفعہ اس سوال کا جواب دیتا ہوں کہ اگر کوئی بات ماننی ہی نہیں تو مشورہ کا کیا فائدہ؟ یہ بہت چھوٹی سی بات ہے ایک دماغ سوچتا ہے تو اس میں محدود باتیں آتی ہیں اگر دو ہزار آدمی قرآن مجید کی آیات غور کر کے ایک مجلس میں معنی بیان کریں تو بعض غلط بھی ہوں گے مگر اس میں بھی تو کوئی شبہ نہیں کہ اکثر درست بھی ہوں گے۔پس درست لے لیے جائیں گے اور غلط چھوڑ دیئے جائیں گے۔اسی طرح ایسے مشوروں پر 510