مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 509 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 509

فرماتے ہیں: پھر اس کے بعد 28 دسمبر 1892ء کو یورپ اور امریکہ کی دینی ہمدردی کے لئے معزز حاضرین نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔اور قرار پایا کہ ایک رسالہ جو اہم ضروریاتِ اسلام کا جامع اور عقائد اسلام کا خوبصورت چہرہ معقولی طور پر دکھاتا ہو تالیف ہو کر اور پھر چھاپ کر یورپ اور امریکہ میں بہت سی کا پیاں اس کی بھیج دی جائیں۔بعد اس کے قادیان میں اپنا مطبع قائم کرنے کیلئے تجاویز پیش ہوئیں اور ایک فہرست ان صاحبوں کے چندہ کی مرتب کی گئی جو اعانت مطبع کیلئے بھیجتے رہیں گے۔یہ بھی قرار پایا کہ ایک اخبار اشاعت اور ہمدردی کے لئے جاری کیا جائے اور یہ بھی تجویز ہوا کہ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی اس کے واعظ مقرر ہوں اور وہ پنجاب اور ہندوستان کا دورہ کریں۔بعد اس کے دعائے خیر کی گئی۔آئندہ بھی ہمیشہ اس سالانہ جلسہ کے یہی مقاصد رہیں گے کہ اشاعت اسلام اور ہمدردی نومسلمین امریکہ اور یورپ کے لئے احسن تجاویز سوچی جائیں اور دنیا میں نیک چلنی اور نیک نیتی اور تقویٰ اور طہارت اور اخلاقی حالات کے ترقی دینے اور اخلاق اور عادات دنیہ اور رسوم قبیحہ کو قوم میں سے دور کرنے کی کوششیں اور تدبیریں کی جائیں۔“ اسلام سلسلہ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 615-616 ) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں ہونے والی مجلس شوری کے متعلق فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احباب جماعت سے مشورہ طلب کرنے کے بارہ میں ایک اور روایت حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں بعض امور جب پیش آئے تو پیش آئے تو آپ علیہ السلام سال میں دو تین چار بار بھی اپنے خدام کو بلا لیتے۔پس مجلس شوریٰ جو سال میں ایک دفعہ منعقد ہوتی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں نہیں ہے کہ اس وقت جو بھی امام ہو وہ صرف ایک ہی دفعہ مشورہ کر کے کافی سمجھے اس بات کو۔جب بھی کسی اہم امر میں فیصلہ کرنا مقصود ہو تو فیصلے سے چھوٹی مجلس عاملہ بھی بلائی جاسکتی ہے۔مشورہ کے لئے احباب جماعت میں سے جو اچھی رائے رکھنے والے صائب الرائے کہلاتے ہیں ان کا بلایا جاسکتا ہے اور خاص طور پر بلانے والوں میں عبادت کرنے والے اور امین لوگوں کو بلانا مناسب ہے۔پس حضرت مفتی صاحب کی روایت کے مطابق سال میں دو تین چار بار بھی اپنے خدام کو بلا لیتے کہ مشورہ کرنا ہے۔کسی جلسے کی تجویز ہوتی تو یاد فرمالیتے “ اور یہاں تک کہ کوئی اشتہار شائع کرنا ہوتا تو (تب بھی) مشورہ طلب کر لیا کرتے تھے۔اسلام جلسہ سالانہ 1892ء کے دوسرے دن 28 دسمبر 1892ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے یورپ اور امریکہ میں دعوت الی اللہ کے لئے حاضرین سے مشورہ طلب فرمایا۔پس یورپ اور امریکہ میں جو تبلیغ ہو رہی ہے اور اس کے بڑے عظیم الشان پھل نکل رہے ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ کے بعد کی بات نہیں ہے آپ علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں ہی اپنی نسل ساری دنیا پر پھیلائی تھی اور خاص پر یورپ اور امریکہ وغیرہ میں تبلیغ کے لئے اپنے احباب سے مشورہ طلب فرمایا تھا اور یہ آپ ہی کے اس مشورہ کا فیض ہے کہ آج دنیا میں ہر جگہ خصوصاً یورپ اور امریکہ میں جماعت بڑی تیزی ترقی کر رہی طور ہے۔(خطبه جمعه بیان فرموده 23 فروری 2001ء بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 30 مارچ 2001 ءصفحہ 7 ) 509