مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 508 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 508

در مجلس شوریٰ میں جو فیصلہ ہوتا ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ خلیفہ کا فیصلہ ہے کیونکہ ہر امر کا فیصلہ مشورہ لینے کے بعد خلیفہ ہی کرتا ہے اس لیے ان فیصلوں کی پوری پوری تعمیل ہونی چاہیے۔جب تک کام کرنے والوں میں یہ روح نہ ہو کہ جو حاکم ہو اس کے احکامات کی اطاعت کی جائے اس وقت تک ان کے حکم کا بھی کوئی احترام نہیں کرے گا۔“ رپورٹ مجلس مشاورت 1930 ءصفحہ 36 ) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آج بے شک ہماری مجلس شوری دنیا میں کوئی عزت نہیں رکھتی مگر وقت آئے گا اور ضرور آئے گا جب دنیا کی بڑی سے بڑی پارلیمنٹوں (Parliments) کے ممبروں (Members) کو وہ درجہ حاصل نہ ہو گا جو اس کی ممبری کی وجہ سے حاصلہ ہو گا۔کیونکہ اس کے ماتحت ساری دنیا کی پارلیمنٹیں (Parliments) آئیں گی۔پس اس مجلس کی ممبری (Membership) بہت بڑی عزت ہے اور اتنی بڑی عزت ہے کہ اگر بڑے سے بڑے بادشاہ کو ملتی تو وہ بھی اس پر فخر کرتا اور وہ وقت آئے گا جب بادشاہ اس پر فخر کریں گے۔،، رپورٹ مجلس مشاورت 1928 ، صفحہ 15 ) سید نا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: نظام خلافت کے بعد دوسرا اہم اور مقدس ادارہ جماعت میں شوریٰ کا ادارہ ہی ہے۔اور جب خلیفہ وقت اس لئے بلا رہا ہو اور احباب جماعت بھی لوگوں کو اپنے میں سے منتخب کر کے اس لئے بھیج رہے ہوں کہ جاؤ اللہ تعالیٰ کی تعلیم دنیا میں پھیلانے، احباب جماعت کی تربیت اور دوسرے مسائل حل کرنے اور خدمت انسانیت کرنے کے لئے خلیفہ وقت نے مشوروں کے لئے بلایا ہے اس کو مشورے دو تو کس قدر ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔66 شوری کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات: 66 ( خطبات مسرور جلد دوم صفحہ 196 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: افسوس ہے کہ بعض لوگ پہلے مشورہ نہیں لیتے۔مشورہ ایک بڑی بابرکت چیز ہے۔اس پر حضرت مولوی نور الدین صاحب نے فرمایا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ خود اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ وہ مشورہ کیا کرے تو پھر دوسروں کے لئے یہ حکم کس قدر زیادہ تاکیدی ہو سکتا ہے۔جو اللہ کا رسول نہیں ہے خود جس کو اللہ تعالیٰ براہ راست بھی ہدایت دیتا ہے، ایسا شخص کیسے مشورہ سے احتراز کرسکتا ہے۔”آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ یا تو مشورہ پوچھتے نہیں یا پوچھتے ہیں تو پھر مانتے نہیں“۔یہ بات میرے تجربہ میں بھی آئی ہے۔یہ نامناسب حرکت ہے یا تو مشورہ لیا ہی نہ کریں لیکن جب مشورہ لیا کریں تو اس کو قبول کرنا آپ کے لئے ضروری ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا ” تو پھر ایسی بات کی لوگ سزا بھی پاتے ہیں۔ایسوں کے حالات سے زیادہ تر وہ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو عبرت حاصل کریں۔“ وو ( بدر - جلد 7 نمبر 16 صفحہ 14 - بتاریخ 23 اپریل 1908 ء ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ سالانہ 1892ء کے دوسرے دن مؤرخہ 28 دسمبر 1892ء کو اشاعت اسلام اغراض کو پورا کرنے کے پیش نظر احباب جماعت کی مجلس شوری منعقد کروائی جس کی روداد بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام 508