مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 507
فرمایا: نئی نئی شکلیں اختیار کرتا چلا جائے گا صرف ایک پہلو یہ باقی رہ جاتا ہے کہ عورت کے حق کا سوال نہیں بلکہ اس کو نمائندگی کس طریق پر دی جائے بحث یہ نہیں ہوگی کہ عورت کو نمائندگی کا حق کس طرح استعمال کرنا ہے بلکہ یہ کہ عورت سے مشورہ لینے کے لئے مجلس شوریٰ میں کیا طریق اختیار کیا جائے۔میرے نزدیک اس کے لئے کسی تعداد کی تعیین کی ضرورت نہیں بلکہ خلیفہ وقت حسب حالات جتنی مستورات کو جس شکل میں نمائندہ کے طور پر بلانا چاہے وہ بلاتا رہے گا اور اس کے لئے کسی قاعدہ کی ضرورت نہیں ہے۔“ فرمایا: (رپورٹ مجلس مشاورت 1983 ءصفحہ 49 تا 56 ) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میری طبیعت خدا نے ایسی بنائی ہے کہ میں یہ سوچتا رہتا ہوں کہ کون سا کام کریں جس سے دنیا میں ہدایت وہ دن یا وہ سال جس میں جماعت کا قدم آگے نہ ہو میرے لیے دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔میری نظر اس بات پر پڑ رہی ہے کہ ہماری جماعت نے آج ہی کام نہیں کرنا بلکہ ہمیشہ کرنا ہے۔دنیا کی انجمنیں ہوتی ہیں جو یہ کہتی ہیں آج کام کر کے دکھا دو اور لوگوں کے سامنے رپورٹ (report) پیش کر دو، مگر میں نے رپورٹ خدا کے سامنے پیش کرنی ہے۔اور خدا کی نظر اگلے زمانوں پر بھی ہے۔اس لیے مجھے یہ فکر ہوتی ہے که آج جو کام کر رہے ہیں یہ آئندہ زمانے کے لیے بنیاد ہو۔ہمارا کام یہ نہیں کہ دیکھیں ہمارا کیا حال ہو گا بلکہ ہے کہ جو کام ہمارے سپرد ہے اسے اس طریق پر چلائیں کہ خدا کو کہہ سکیں کہ اگر بعد میں آنے والے احتیاط سے کام لیں تو تباہ نہ ہوں گے۔پس مجھے آئندہ کی فکر ہے اور میری نظر آئندہ پر ہے کہ ہم آئندہ کے لیے بنیاد رکھیں۔جس کی نظر وسیع نہیں اسے تکلیف نظر آرہی ہے۔مگر اس کی آئندہ نسل ان لوگوں پر جو یہ بنیادیں رکھیں گے درود پڑھے گی۔۔۔۔وہ زمانہ آئے گا جب خدا ثابت کر دے گا، کہ اس جماعت کے لیے یہ کام بنیادی پتھر ہے۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مجلس شوری کے منصب اور جماعتی نظام میں اس کے مقام کی وضاحت کرتے ہوئے رپورٹ مجلس مشاورت 1922 ، صفحہ 20 ) خلیفہ وقت نے اپنے کام کے دوحصے کیے ہوئے ہیں ایک حصہ انتظامی ہے اس کے عہد یدار مقرر کرنا خلیفہ کا دوسرا حصہ خلیفہ کے کام کا اصولی ہے اس کے لیے وہ مجلس شوریٰ کا مشورہ لیتا پس مجلس کام ہے۔ہے۔معتمدین انتظامی کاموں میں خلیفہ کی ایسی ہی جانشین ہے جیسی مجلس شوری اصولی کاموں میں خلیفہ کی جانشین ہے۔(رپورٹ مجلس مشاورت 1930 ء ) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مجلس شوری کے منصب اور جماعتی نظام میں اس کے مقام کی وضاحت کرتے ہوئے د مجلس شوریٰ ہو یا صدر انجمن احمدیہ، خلیفہ کا مقام بہر حال دونوں کی سرداری ہے۔انتظامی لحاظ سے وہ صدر انجمن احمدیہ کا رہنما ہے اور آئین سازی اور بحث کی تعیین کے لحاظ سے وہ مجلس شوری کے نمائندوں کے لیے بھی صدر اور راہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔“ (الفضل 27 / اپریل 1938 ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مجلس شوری کے فیصلوں کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: 507