مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 5 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 5

شاردا بل (bill) اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ: اجمیر کے مسٹر ہر بلاس شاردا نے اسمبلی میں تجویز پیش کی کہ ہندوؤں میں کم سن بچوں کی شادی کی عادت پائی جاتی ہے جس سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما، اخلاق و عادات اور صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔لہذا ایک قانون نافذ کیا جائے جس سے اس رسم کا انسداد ہو سکے۔یہ تجویز شاردا بل کے نام سے موسوم ہوئی اور اسے وائسرائے ہند کی منظوری سے پورے ہندوستان پر نافذ کر دیا گیا۔۔امیر المؤمنین سیدنا حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس قانون سے متعلق حکومت ہند کو ایک مفصل بیان ارسال فرمایا جس میں بتایا کہ بچپن کی شادی پر قانوناً پابندی عائد کرنا درست نہیں تعلیم اور وعظ کے ذریعہ اس کی روک تھام کرنی چاہئے۔قانون بنا دینے سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی۔صحیح طریق یہ ہے کہ بچوں کا بالغ ہونے پر فسخ نکاح کا حق دیا جائے اس حق سے تمام نقائص دور ہو سکتے ہیں۔بلا شبہ فسخ نکاح کے معاملہ میں دوسرے مذاہب کا اسلامی تعلیم سے اختلاف ہے لیکن اس کے باوجود یہ عقل و فہم سے بالا امر ہے کہ مسلمانوں کو کیوں ایسے تمدنی حالات میں دوسرے مذاہب کے تابع کیا جائے جن میں ہماری شریعت نے ہمارے لئے معقول صورت پیدا کر دی ہے لیکن ان کے ہاں کوئی علاج نہیں۔شرعاً ایسے قانون کی ہمارے نزدیک ممانعت نہیں بشرطیکہ اس کا فیصلہ مسلمانوں کی رائے پر ہو۔تحریک حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ : انفلوانزا کی عالمگیر وہا میں جماعت کی بے لوث خدمات: تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 150) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: ”1918ء میں جنگ عظیم کا ایک نتیجہ انفلوانزا کی وبا کی صورت میں ظاہر ہوا جس نے گویا ساری دنیا میں پھیل کر اس تباہی سے بھی زیادہ تباہی مچا دی جو جنگ کے میدان میں ہوئی تھی۔ہندوستان میں بھی اس مرض کا سخت حملہ ہوا اور گو شروع میں اموات کی شرح کم تھی مگر کچھ عرصہ کے بعد اس کثرت کے ساتھ موتیں ہونے لگیں کہ قیامت کا نمونہ سامنے آگیا۔چونکہ جماعت احمدیہ کے فرائض میں ایک بات یہ بھی داخل ہے کہ وہ مخلوق کی خدمت کرے اس لئے ان ایام میں حضرت خلیفہ اُسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے ماتحت جماعت احمدیہ نے نہایت شاندار خدمت سرانجام دی اور مذہب وملت کی تمیز کے بغیر ہر قوم اور طبقہ کے لوگوں کی تیمار داری اور علاج معالجہ میں نمایاں حصہ لیا۔احمدی ڈاکٹروں اور احمدی طبیبوں نے اپنی آنریری خدمات پیش کر کے نہ صرف قادیان میں مخلوق خدا کی خدمت کا حق ادا کیا بلکہ شہر بہ شہر گاؤں بہ گاؤں پھر کر طبی امداد بہم پہنچائی اور عام والنٹیر وں نے نرسنگ وغیرہ کی خدمت سر انجام دی اور غربا کی امداد کے لئے جماعت کی طرف سے روپیہ اور خورد و نوش کا سامان بھی فراخ دلی کے ساتھ تقسیم کیا گیا۔مجھے خوب یاد ہے کیونکہ میں بھی اس آنریری کور میں شامل تھا کہ ان ایام میں احمدی والنٹیر دن رات اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر مریضوں کی خدمت میں مصروف تھے اور بعض صورتوں میں جبکہ کام کرنے والے خود بیمار ہو گئے اور ابھی نئے کام کرنے والے میسر نہیں آئے تھے۔بیمار والٹیروں نے ہی خدمت کے سلسلہ کو جاری رکھا اور جب تک یہ والنٹیر بالکل 5