مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 498
فرمایا: وضاحت فرما دی کہ مشورہ کے مطابق یا اسے رد کرتے ہوئے ، اقلیت کا فیصلہ مانتے ہوئے یا اکثریت کا فیصلہ مانتے ہوئے جب ایک فیصلہ کر لو، کیونکہ بعض دفعہ حالات کا ہر ایک کو پتہ نہیں ہوتا اس لئے مشورہ رڈ بھی کرنا پڑتا ہے۔تو پھر یہ ڈرنے یا سوچنے کی ضرورت نہیں کہ ایسا نہ ہو جائے، ویسا نہ ہو جائے۔پھر اللہ پر توکل کرو اور جس بات کا فیصلہ کر لیا اس پر عمل کرو۔“ (خطبه جمعه فرموده 24 مارچ 2006 ء - الفضل انٹرنیشنل 14 تا 20 اپریل 2006 ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے پارلیمنٹ (Parliment) کی نسبت شوری کے طریق کی فضیلت واضح کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں یہی ہوتا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ رائے نہ ملی تو گورنمنٹ ٹوٹ جائے گی۔اس لیے سارے رائے دے دیتے ہیں تو عام طبائع ایسی نہیں ہوتیں کہ صحیح رائے قائم کر سکیں۔اس لیے اکثر لوگ دوسروں کے پیچھے تے ہیں اگر کہیں کہ وہ اہل الرائے ہوتے ہیں تو بھی یہی ہوتا ہے کہ بڑے کی رائے کے نیچے ان کی رائے ، جاتی ہے اس لیے یہی ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے دونوں کا مقابلہ ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ہر وقت مقابلہ رہتا ہے۔مگر شوری میں یہ بات نہیں ہوتی کیونکہ اس میں پارٹی کا خیال نہیں ہوتا۔پس چونکہ پارٹی ہوتی نہیں اور خلیفہ سب سے تی تعلق رکھتا رکھتا ہے اس لیے اس کا تعلق سب سے ایسا ہی ہوتا ہے جیسے باپ بیٹے کا۔بھائی بھائی تو لڑ پڑتے ہیں مگر باپ سے لڑائی نہیں ہو سکتی۔چونکہ خلیفہ کا سب سے محبت کا تعلق ہوتا ہے۔اس لیے اگر ان میں لڑائی بھی ہو جائے تو وہ دور کر دیتا ہے اور بات بڑھنے نہیں پاتی۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ر پورٹ مجلس مشاورت 1922 ء صفحہ 16 ) " آنحضرت مطلقہ خود فرماتے ہیں کہ میں غلطی کر سکتا ہوں۔تو پھر خلیفہ سے غلطی کس طرح ناممکن ہے ؟ مگر پھر بھی اس کے فیصلے کو شرح صدر کے ساتھ ماننا ضروری ہے۔اس اصل کو بھلا دو تو تمہارے اندر بھی تفرقہ اور تنفر پیدا ہو جائے گا۔اسے مٹا دو اور لوگوں کو کہنے دو کہ خلیفہ غلطی کر سکتا ہے تو تم بھی پراگندہ بھیڑوں کی طرح ہو جاؤ گے۔جن کو بھیڑیئے اٹھا کر لے جائیں گے اور دنیا کی لعنتیں تم پر پڑیں گی۔جسے خدا نے عزت دی ہے تمہارے لئے اس کی عیب جوئی جائز نہیں اگر وہ غلطی بھی کرتا ہے اور اس کی غلطی سے تمہیں نقصان پہنچتا ہے تو صبر کرو۔خدا دوسرے ذریعہ سے تمہیں اس کا اجر دے گا۔اور اگر وہ گندہ ہو گیا ہے تو جیسا کہ حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم خدا کے آگے اس کا معاملہ پیش کرو۔وہ اگر تم کو حق پر دیکھے گا اسے خود موت دے دے گا اور تمہاری تکلیف دور کر دے گا۔“ الفضل 18 جولائی 1937 ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہمارا عقیدہ ہے کہ خلیفہ کا محافظ خدا تعالیٰ ہے اور وہ اس سے ایسی غلطی سرزد نہیں ہونے دے گا جو اصولی امور کے متعلق ہوں۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الفضل 29 جولائی 1952 ء ) عصمت صغریٰ اسے (خلیفہ کو۔ناقل ) حاصل ہے۔یعنی اسے مذہبی مشین کا پرزہ قرار دیا گیا ہے۔اور وعدہ کیا 498