مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 497
توکل کرو کیونکہ جب تمام چھان پھٹک کے بعد ایک فیصلہ کر لیا ہے پھر معاملہ خدا تعالیٰ پر ہی چھوڑنا بہتر ہے اور جب اے نبی ! تو نے معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی کی بات کی لاج رکھے گا۔اور انشاء اللہ اس کے بہتر نتائج ظاہر ہوں گے۔جس طرح تاریخ میں ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر قیدیوں سے سلوک کے بارے میں اکثریت کی رائے رڈ کر کے آنحضرت صلی اللہ نے صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے مانی تھی، پھر بعض دفعہ دوسری جنگوں کے معاملات میں صحابہ کے مشورہ کو بہت اہمیت دی جنگ اُحد میں ہی صحابہ کے مشورے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں گئے تھے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہ کرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ خیال تھا کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے اور جب اس مشورہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہتھیار بند ہو کر نکلے تو صحابہ کو خیال آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف فیصلہ ہوا ہے، عرض کی یہیں رہ کر مقابلہ کرتے ہیں۔تب آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں نبی جب ایک فیصلہ کر لے تو اس سے پھر پیچھے نہیں ہلتا، اب اللہ پر توکل کرو اور چلو۔پھر یہ بھی صورت حال ہوئی کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی متفقہ رائے تھی کہ معاہدہ پر دستخط نہ کئے جائیں لیکن آنحضرت صل اللہ نے ان سب کی رائے کے خلاف اس پر دستخط فرما دیئے۔اور پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس کے کیسے شاندار نتائج پیدا فرمائے۔تو مشورہ لینے کا حکم تو ہے تاکہ معاملہ پوری طرح نتھر کر سامنے آجائے لیکن ضروری نہیں ہے کہ مشورہ مانا بھی جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی میں ہی ہمارا نظام شوری بھی قائم ہے، خلفا مشورہ لیتے ہیں تاکہ گہرائی میں جاکر معاملات کو دیکھا جا سکے لیکن ضروری نہیں ہے کہ شوری کے تمام فیصلوں کو قبول بھی کیا جائے اس لئے ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ شوری کی کارروائی کے آخر پر معاملات زیر غور کے بارے میں جب رپورٹ پیش کی جاتی ہے تو اس پر یہ لکھا ہوتا ہے که شوری یہ سفارش کرتی ہے، یہ لکھنے کا حق نہیں ہے کہ شوریٰ یہ فیصلہ کرتی ہے۔شوریٰ کو صرف سفارش کا حق فیصلہ کرنے کا حق صرف خلیفہ وقت کو ہے۔اس پر کسی کے ذہن میں یہ بھی سوال اٹھ سکتا ہے کہ پھر شوری بلانے کا یا مشورہ لینے کا فائدہ کیا ہے، آج کل کے پڑھے لکھے ذہنوں میں یہ بھی آجاتا ہے تو جیسا کہ بھی کہہ آیا ہوں کہ مجلس مشاورت ایک مشورہ دینے والا ادارہ ہے۔اس کا کردار پارلیمنٹ (Parliment) کا نہیں ہے جہاں فیصلے کئے جاتے ہیں۔آخری فیصلے کے لئے بہر حال معاملہ خلیفہ وقت کے پاس آتا ہے اور خلیفہ وقت کو ہی اختیار ہے کہ فیصلہ کرے، اور یہ اختیار اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے۔لیکن بہر حال عموماً مشورے مانے بھی جاتے ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا سوائے خاص حالات کے، جن کا علم خلیفہ وقت کو ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ بعض حالات میں بعض وجوہات جن کی وجہ سے وہ مشورہ رد کیا گیا ہو ان کو خلیفہ وقت بتانا چاہتا ہو ایسی بعض مجبوریاں ہوتی ہیں۔“ ہے۔میں (خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 196 تا 198 ) سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: الله جیسا کہ ہم جانتے ہیں جماعت میں مجلس شوری کا ادارہ نظام جماعت اور نظام خلافت کے کاموں کی مدد کے لئے انتہائی اہم ادارہ ہے۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول اس سلسلہ میں بڑا اہم ہے کہ: لَا خِلَافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ کہ بغیر مشورے کے خلافت نہیں ہے۔اور یہ قول قرآن کریم کی ہدایت اور آنحضرت صلہ کے اُسوہ کے عین مطابق ہے۔آپ مطلقہ صحابہ سے ہر اہم کام میں مشورہ لیا کرتے تھے لیکن جیسا کہ آیت سے واضح ہے مشورہ لینے کا حکم تو ہے لیکن یہ حکم نہیں کہ جو اکثریت رائے کا مشورہ ہو اسے قبول بھی کرنا ہے اس لئے 497