مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 496 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 496

مشاورت کے نظام کا اصولی خلاصہ ہے۔" حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (سوانح فضل عمر جلد 2 صفحہ 193,192 ) ”وہ لوگ جو جماعت احمدیہ کے اس روحانی نظام کو دنیاوی پیمانوں سے جانچتے ہیں اور اس امر پر کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر خلیفہ وقت کو آرا کو رد کرنے کا آخری اختیار حاصل ہے تو ایسے مشورہ کا فائدہ ہی کیا اور اس طریق مشورہ کو محض ایک پردہ سمجھتے ہیں جو گویا آمریت کو چھپائے ہوئے ہے۔ان کے لیے مجلس مشاورت جماعت احمدیہ کی کارروائیوں کا مطالعہ یقیناً آنکھیں کھولنے کا باعث بن سکتا ہے۔وہ حیرت سے اس حقیقت کا مشاہدہ کریں گے کہ خلیفہ وقت 99 فیصدی سے زائد مرتبہ کثرتِ رائے کی تائید کرتا ہے اور جب کثرتِ رائے اختلاف کرتا ہے تو ایسے قوی دلائل اپنے مؤقف کی تائید میں پیش کرتا ہے کہ کثرت رائے ہی نہیں تمام مجلس بالاتفاق خلیفہ وقت کی رائے کی فضیلت کی قائل ہو جاتی ہے۔گویا یہ ایک ایسی مجلس مشاورت ہے جس کا آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یا تو مشوروں کو قبول یا رد کرنے کا اختیار رکھنے والا عوامی نمائندوں کی آرا سے متفق ہو یا عوامی نمائندے بشرح قلب اس فیصلہ کرنے والے کے فیصلہ سے مطمئن ہوں۔دنیا کے پردے پر ایسے عظیم طوعی اتفاق نظر و فکر کی کوئی مثال نظر نہیں آسکتی۔مزید برآں تربیت یہ کی گئی ہے اور واقعتا اس طریق کار پر سو فیصدی عمل بھی ہے کہ جن دوستوں کی آرا کو کثرت رائے نے رد کر دیا ہو وہ آخری فیصلہ کے بعد عملدرآمد کے وقت اپنی رائے کو اتنی بھی اہمیت نہیں دیتے جو ردی کی ٹوکری میں پھینکے ہوئے ایک کاغذ کے پرزے کو ہوسکتی ہے بلکہ بلا استثنا اپنی تمام استعدادوں کے ساتھ کثرت رائے کے اس فیصلہ پر بشرح صدر عمل پیرا ہو جاتے ہیں جسے خلیفہ وقت کی منظوری حاصل ہو۔“ (سوانح فضل عمر جلد 2 صفحہ 199 200 ) سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: خلیفہ وقت یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ ممبران نے بڑے غور سے سوچ سمجھ کر کسی معاملے میں رائے قائم کی ہوگی اور عموماً مجلس شوری کی رائے کو اس وجہ سے من وعن قبول کر لیا جاتا ہے، اسی صورت میں قبول کر لیا جاتا ہے۔سوائے بعض ایسے معاملات کے جہاں خلیفہ وقت کو معین علم ہو کہ شوریٰ کا یہ فیصلہ ماننے پر جماعت کو نقصان ہو سکتا ہے اور یہ بات ایسی نہیں ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے یا اس سے ہٹ کر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہوئی ہے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى الله (سورة آل عمران آیت ( 160 ) یعنی اور ہر اہم معاملے میں ان سے مشورہ کر ( نبی کو یہ حکم ہے) پس جب کوئی فیصلہ کر لے تو پھر اللہ پر توکل کر۔یعنی یہاں یہ تو ہے کہ اہم معاملات میں مشورہ ضروری ہے، ضرور کرنا چاہئے اور اس حکم کے تابع آنحضرت مطلقہ بھی مشورہ کیا کرتے تھے بلکہ اس حد تک مشورہ کیا کرتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت سے زیادہ کسی کو اپنے اصحاب سے مشورہ کرتے نہیں دیکھا۔تو یہ حکم الہی بھی ہے اور سنت بھی ہے اور اس حکم کی وجہ سے جماعت میں بھی شوری کا نظام جاری ہے۔لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ مشورہ تو لے لو لیکن اس مشورے کے بعد تمام آرا آنے کے بعد جو فیصلہ کر لو تو ہوسکتا ہے کہ بعض دفعہ یہ فیصلہ ان مشوروں سے الٹ بھی ہو۔تو فرمایا جو فیصلہ کر لو پھر اللہ تعالیٰ صال الله 496