مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 491 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 491

حدیث: عَنْ عُمَرَ رضى الله تعالى عنه أَنَّه قَالَ : لَا خِلَافَة إِلَّا عَنْ مَشْوَرَةٍ ترجمہ: خلافت کا انعقاد مشورہ اور رائے لینے کے بغیر درست نہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (كنز العمال كتاب الخلافة مع الامارة) ” میرا مذہب ہے: لَا خِلَافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ - خلافت جائز ہی نہیں جب تک اس میں شوری نہ ہو۔) منصب خلافت۔انوار العلوم جلد 2 صفحہ 25) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دنیاوی مجالس مشاورت میں تو یہ ہوتا ہے کہ ان میں شامل ہونے والا ہر شخص کہہ سکتا ہے۔کہ چاہے میری بات رد کر دو مگر سن لو۔لیکن خلافت میں کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں۔یہ خلیفہ کا ہی حق ہے کہ جو بات مشورہ کے قابل سمجھے اس کے متعلق مشورہ لے۔اور شوریٰ کو چاہیے کہ اس کے متعلق رائے دے۔شوری اس کے سوا اپنی ذات میں اور کوئی حق نہیں رکھتی کہ خلیفہ جس امر میں اس سے مشورہ لے اس میں وہ مشورہ دے۔“ رپورٹ مجلس مشاورت 1930 ، صفحہ 42-43 ) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مشورہ لینے کا حق اسلام نے نبی کو اور اس کی نیابت میں خلیفہ کو دیا ہے مگر کوئی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ نبی یا خلیفہ کے سامنے تجاویز پیش کرنے کا حق دوسروں کے لئے رکھا گیا ہے کوئی ایسی مثال نہیں مل سکتی کہ کسی نے اپنی طرف سے رسول کریم مطلقہ کے سامنے تجویز پیش کی ہو۔اور اسے اپنا حق سمجھا ہو۔“ دد مکرم۔رپورٹ مجلس مشاورت 1930 ، صفحہ 7 ) سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: مولانا ابو العطا صاحب جالندھری نے اپنی رپورٹ کی ابتدا میں ایک تمہیدی نوٹ دیا تھا جس کے الفاظ تھے کہ: ”سب سے پہلے یہ وضاحت ضروری سمجھی گئی ہے۔کہ تمام جماعتوں اور افراد پر اچھی طرح واضح رہے که مشورہ لینے کا حق نبی یا امام وقت کو دیا گیا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فرمایا ہے۔امام جس طریق پر اور جن افراد سے مشورہ لینا پسند کرے۔اس کا اسے از روئے شریعت اختیار ہے۔جماعتوں اور افراد کا یہ حق نہیں کہ کسی خاص طریق پر مشورہ دینے کا مطالبہ کریں۔مجلس شوریٰ کو خلیفہ وقت بلاتے ہیں۔اور اس بارہ میں انہیں پورا اختیار ہے کہ جس طریق پر اور جن افراد سے اور جتنی تعداد سے مشورہ لینا چاہیں مشورہ لے سکتے ہیں۔یہ وضاحت کرنا اس لئے ضروری سمجھا گیا تا کسی نئے احمدی کے ذہن میں مغربی طرز فکر کے ماتحت پارلیمنوں (Parliments) کے طریق پر نمائندگی کے حق کا سوال پیدا نہ ہو۔“ اس تمہیدی نوٹ پر حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جہاں تک مجلس شوری کا سوال ہے وہی فقرہ درست ہے جو مکرم ابو العطا صاحب نے اپنے تمہیدی نوٹ میں ہے۔کیونکہ یہ فیصلہ کرنا کہ کسی مجلس کو مشورہ کے لئے قائم کیا جائے یا نہ کیا جائے یہ جماعت کا حق نہیں ہے بلکہ خلیفہ وقت کا حق ہے۔اگر آپ اسے جماعت کا حق فرض کر لیں تو ساتھ ہی ہمیں اس وقت یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے جماعت کو یہ حق نہیں دیا کیونکہ انہوں نے اس قسم کی مجلس لکھا 491