مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 49
اور آ کہا کاٹ کھایا ہے۔جب اس نے آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا تو وہ پارسی دو دھاری چھری لئے ہوئے تھا جس کسی کے پاس دائیں بائیں گزرتا تو اس کو زخمی کرتا یہاں تک کہ اس نے تیرہ (13) آدمیوں کو زخمی کیا، ان میں سے سات مر گئے تو جب مسلمانوں میں سے ایک شخص نے جب یہ دیکھا تو اس نے بارانی کوٹ اس پر پھینکا جب اس پارسی نے سمجھ لیا کہ وہ پکڑا گیا ہے تو اُس نے اپنا گلا کاٹ لیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بن عوف کا ہاتھ پکڑ کر ان کو آگے کیا اور جو لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قریب تھے انہوں نے وہ ماجرا دیکھا جو میں نے دیکھا اور مسجد کے اطراف میں جو تھے تو وہ نہیں جانتے تھے سوا اس کے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی اور وہ سبحان اللہ سبحان اللہ کہنے لگے تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بن عوف) نے ان کو ہلکی سی نماز پڑھائی جب وہ نماز سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہ دیکھو! مجھ کو کس نے مارا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ کچھ دیر تک ادھر گھومتے رہے، پھر آئے اور انہوں نے بتایا کہ مغیرہ کے غلام نے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہی جو کاری گر ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اسے ہلاک کرے میں نے اس کے متعلق نیک سلوک کرنے کا دیا تھا۔اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے میری موت ایسے شخص کے ہاتھ سے نہیں کی جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو! اور ایک نوجوان شخص آیا اس نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کو اللہ کی بشارت ہو، آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور اسلام میں وہ اعلیٰ درجہ ملا ہے جو آپ خوب جانتے ہیں۔پھر آپ جانشین ہوئے نے انصاف کیا، پھر یہ شہادت ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری تو یہ آرزو ہے کہ یہ باتیں برابر ہی برابر رہیں! نہ مجھے مواخذہ ہو اور نہ ثواب ملے جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا، دیکھا کہ اس کا نہ بند زمین سے لگ رہا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس لڑکے کو میرے پاس واپس بھیج دو۔وہ آیا تو فرمانے لگے: میرے بھائی کے بیٹے ! اپنا کپڑا تو اُٹھاؤ کیونکہ یہ تمہارے کپڑے کو بچائے رکھے گا اور تمہارے رب کے نزدیک تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (اپنے صاحبزادے کو) کہنے لگے۔دیکھو مجھ پر کتنا قرض ہے؟ انہوں نے حساب کیا تو اس کو چھیاسی ہزار درہم یا کچھ اتنا ہی پایا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر عمر رضی اللہ عنہ کے خاندان کی جائیداد اس کو پورا کر دے تو پھر ان کی جائیداد سے اس کو ادا کردو ورنہ بنی عدی بن کعب سے مانگنا اگر ان کی جائیدادیں بھی پورا نہ کریں تو قریش سے مانگنا اور ان کے سوا کسی کے پاس نہ جانا۔یہ قرض میری طرف سے ادا کر دینا۔عائشہ اُم المؤمنین کے پاس جاؤ اور کہو: عمر رضی اللہ عنہ آپ کو سلام کہتے ہیں اور امیرالمؤمنین نہ کہنا کیونکہ آج میں مومنوں کا امیر نہیں ہوں اور کہو: عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب اس بات کی اجازت مانگتا ہے کہ اسے اس کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائے۔چنانچہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سلام کہا اور اندر آنے کی اجازت مانگی اور ان کے پاس اندر گئے تو انہیں دیکھا کہ وہ بیٹھی ہوئی رو رہی ہیں۔عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب آپ کو سلام کہتے ہیں اور اجازت مانگتے ہیں کہ ان کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ان کو دفن کیا جائے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: میں اس جگہ کو اپنے لیے چاہتی ہوں اور آج میں اپنی ذات پر ان کو مقدم کروں گی۔جب عبداللہ رضی اللہ عنہ لوٹ کر آئے تو ان (عمر رضی اللہ عنہ) سے کہا گیا کہ یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آگئے نے کہا: مجھے اُٹھاؤ! تو ایک شخص نے آپ رضی اللہ عنہ کو سہارا دے کر اٹھایا۔انہوں نے پوچھا: تمہارے پاس کیا خبر ہے؟ (عبداللہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: امیرالمؤمنین! وہی جو آپ پسند کرتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی ہے۔کہنے لگے: الحمد للہ اس سے بڑھ کر مجھے اور کسی چیز کا فکر نہیں تھا۔جب میں مر ہیں۔انہوں 49