مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 50 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 50

جاؤں تو مجھے اٹھا کر لے جانا، پھر سلام کہنا اور یہ کہنا کہ عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب اجازت مانگتا ہے! اگر انہوں نے میرے لیے اجازت دی تو مجھے وہاں حجرے میں دفنا دینا اور اگر انہوں نے میری بات نہ مانی تو پھر مجھے مسلمانوں کے مقبرے میں واپس لے جانا۔“ (صحیح بخاری پارہ نمبر 14 صفحہ 198 تا204 کتاب المناقب باب مناقب مہاجرین اور ان کی فضیلت۔ترجمہ: حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب) حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ : تاریخ الخلفا میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نسب نامہ یوں درج ہے: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ درج ذیل ہے عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن لوی بن غالب قرشی اموی۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ابو عمر تھی۔“ (تاریخ الخلفا صفحه 175) حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں عبد مناف پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نانی بیضا اُمّم احکیم، حضرت عبد اللہ بن عبدالمطلب کی سگی بہن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ کی پھوپھی تھیں۔“ (سير الصحابہ صفحہ جلد اوّل 175) حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عام الفیل کے چھٹے برس مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔اسلامی تبلیغ کے آغاز میں ہی دولت ایمان سے مالا مال ہوئے۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو مرتبہ ہجرت کی پہلی ہجرت حبشہ کی جانب اور پھر مدینہ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی منجھلی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے آپ رضی اللہ عنہ کا نکاح کیا۔یہ واقعہ نبوت سے پہلے کا ہے۔حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ نے بزمانہ جنگ بدر انتقال فرمایا۔حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری کے باعث حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے۔حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد نے ان کی دوسری بہن حضرت اُمّ کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی جن کا انتقال مدینہ میں 9 ہجری کو ہوا چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شادی ہوئی اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ کو ” ذوالنورین بھی کہتے ہیں۔“ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے تھے جو اسلام سے پہلے نوشت و خواند (لکھنا پڑھنا۔ناقل) جانتے ، تھے۔اسلام کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تحریر و کتابت کی مہارت کی بنا پر حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو کتابت وحی پر مامور کیا تھا۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا مقام: تاريخ الخلفاء - صفحه 175 تا 179) (سير الصحابہ جلد 1 صفحہ 233) 50