مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 470
خدا کو ان سے محبت ہو گی تو وہ مقابلہ میں ضرور ان کی مدد اور تائید کرے گا۔ایک کمزور اور ناتواں انسان اپنے پیاروں کو دکھ اور تکلیف میں دیکھ کر جس قدر اس کی طاقت اور ہمت ہوتی ہے اس کی مدد کرتا ہے تو کیا انہوں نے اپنے خدا کو ایک کمزور انسان سے بھی کمزور سمجھ رکھا ہے جو ان کی مدد نہیں کرے گا۔اگر نہیں تو میں ان کو چیلنج دیتا ہوں کہ مقابلہ پر آئیں تاکہ ثابت ہو کہ خدا کس کی مدد کرتا ہے اور کس کی دعا سنتا ہے۔آپ لوگوں اہیے کہ اپنی طرف سے لوگوں کو اس مقابلہ کے لیے کھڑا کریں لیکن اس کے لئے یہ نہیں ہے کہ ہر ایک ہو کر کہ دے کہ میں مقابلہ کرتا ہوں بلکہ ان کو مقابلہ پر آنا چاہیے جو کسی مذہب یا فرقہ کے قائم مقام ہوں اس وقت دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ خدا کس کی دعا قبول کرتا ہے میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ہماری ہی دعا قبول ہو گی۔افسوس ہے کہ مختلف مذاہب کے بڑے لوگ اس مقابلہ پر آنے سے ڈرتے ہیں اگر وہ مقابلہ کے لیے نکلیں تو ان کو ایسی شکست نصیب ہو گی کہ پھر مقابلہ کرنے کی انہیں جرات ہی نہ رہے گی۔“ خلفائے سلسلہ کے علمی وفکری چیلنجز: حضرت خلیفة امسح الاول رضی اللہ عنہ کا آریہ سماج کو علمی چیلنج زندہ مذاہب انوار العلوم جلد نمبر 3 صفحہ 612,613) سنو! مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ عرش کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے تمام قرآن شریف کو اول سے آخر تک پڑھو اس میں ہر گز نہیں پاؤ گے کہ عرش کوئی چیز محدود اور مخلوق ہے۔۔خدا نے بار بار قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ایک چیز جو کوئی وجود رکھتی ہے اس کا میں ہی پیدا کرنے والا ہوں، میں ہی زمین آسمان اور رُوحوں اور ان کی تمام قوتوں کا خالق ہوں، میں اپنی ذات میں آپ قائم ہوں اور ہر ایک چیز میرے ساتھ قائم ہے، ہر ایک ذرہ اور ہر ایک چیز جو موجود ہے وہ میری ہی پیدائش ہے مگر کہیں نہیں فرمایا کہ عرش بھی کوئی جسمانی چیز ہے جس کا میں پیدا کرنے والا ہوں۔اگر کوئی آریہ قرآن شریف میں سے نکال دے کہ عرش بھی کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے تو میں اس کو قبل اس کے جو قادیان سے باہر جائے ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا۔میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے کہ میں قرآن شریف کی وہ آیت دیکھتے ہی ہزار روپیہ حوالہ کر دوں گا ورنہ میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ ایسا شخص خود لعنت کا محل ہو گا جو خدا پر جھوٹ بولتا ہے۔“ حقائق الفرقان جلد نمبر 4 صفحہ 199) حضرت خلیفۃالمسیح الاول کے اس انعامی چیلنج کا آریہ سماج سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے دیئے جانے والے مختلف چیلنجز: وو (1) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے دیو بندیوں کو تفسیر نویسی کا چیلنج: مولوی صاحبان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن میں وہ معارف ہیں جو پہلی کتب میں نہیں ہیں۔پس حضرت مرزا صاحب کے دعوئی کے پرکھنے سے پہلے ہمیں جدت و کثرت کا معیار قائم کر لینا 470