مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 471 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 471

اور اس کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ غیر احمدی علما مل کر قرآن کریم کے معارف روحانیہ بیان کریں جو پہلی کسی کتاب میں نہیں ملتے اور جن کے بغیر روحانی تکمیل نا ممکن تھی، پھر میں ان کے مقابلہ پر کم سے کم دگنے معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے لکھے تھے اور ان مولویوں کو تو کیا سوجھنے تھے پہلے مفسرین ومصنفین نے بھی نہیں لکھے۔اگر میں کم سے کم دگنے ایسے معارف نہ لکھ سکوں تو بے شک مولوی صاحبان اعتراض کریں طریق فیصلہ یہ ہو گا کہ مولوی صاحبان معارف قرآنیہ کی ایک کتاب ایک سال تک لکھ کر شائع کر دیں اور اس کے بعد میں اس پر جرح کروں گا جس کے لئے مجھے چھ ماہ کی مدت ملے گی۔اس مدت میں جس قدر باتیں ان کی میرے نزدیک پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں ان کو میں پیش کروں گا اگر ثالث فیصلہ دیں کہ وہ باتیں واقع میں پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں تو اس حصہ کو کاٹ کر صرف وہ حصہ ان کی کتاب کا تسلیم کیا جائے گا جس میں ایسے معارف قرآنیہ ہوں جو پہلی کتب میں نہیں پائے جاتے۔اس کے بعد میں چھ ماہ کے عرصہ میں ایسے معارف قرآنیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے یا آپ علیہ السلام کے مقرر کردہ اصول کی بنا پر لکھوں گا جو پہلے کسی مصنف اسلامی نے نہیں لکھے اور مولوی صاحبان کو چھ ماہ کی مدت دی جائے گی کہ وہ اس پر جرح کر لیں اور جس قدر حصہ ان کی جرح کا منصف تسلیم کریں اس کو کاٹ کر باقی کتاب کا مقابلہ ان کی کتاب سے کیا جائے اور دیکھا جائے کی آیا میرے بیان کردہ معارف قرآنیہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے لئے گئے ہوں گے اور جو پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں گے ان علما کے ان معارف قرآنیہ سے کم از کم دگنے ہیں یا نہیں جو انہوں نے قرآن کریم سے ماخوذ کئے ہوں گے اور وہ پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں۔اگر میں ایسے دُگنے معارف دکھانے سے قاصر رہوں تو مولوی صاحبان جو چاہیں کہیں لیکن اگر مولوی صاحبان اس مقابلہ سے گریز کریں یا شکست کھائیں تو دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا دعویٰ منجانب اللہ تھا۔یہ ضروری ہو گا کہ ہر فریق اپنی کتاب کی اشاعت کے معا بعد اپنی کتاب دوسرے فریق کو رجسٹری کے ذریعہ سے بھیج مولوی صاحبان کو میں اجازت دیتا ہوں کہ وہ دگنی چوگنی قیمت کا وی پی میرے نام کر دیں۔اگر مولوی صاحبان اس طریق فیصلہ کو ناپسند کریں اور اس سے گریز کریں تو دوسرا طریق یہ ہے کہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا ادنی خادم ہوں میرے مقابلہ پر مولوی صاحبان آئیں اور قرآن کریم کے تین رکوع کسی جگہ سے قرعہ ڈال کر انتخاب کر لیں اور وہ تین دن تک اس ٹکڑے کی ایسی تفسیر لکھیں جس میں چند ایسے نکات ضرور ہوں جو پہلی کتب میں موجود نہ ہوں اور میں بھی اسی ٹکڑے کی اسی عرصہ میں تفسیر لکھوں گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کی روشنی میں اس کی تشریح بیان کروں گا اور کم سے کم چند ایسے معارف بیان کروں گا جو اس سے پہلے کسی مفسر یا مصنف نے نہ لکھے ہوں گے اور پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے قرآن کریم کی کیا خدمت کی ہے اور مولوی صاحبان کو قرآن کریم اور اس کے نازل کرنے والے سے کیا تعلق اور کیا رشتہ ہے۔“ مخالفین احمدیت کے بارے میں انوار العلوم جلد 9 صفحہ نمبر 97 تا 98) دے۔چنانچہ اس چیلنج کے بارے میں تاریخ احمدیت میں لکھا ہے کہ: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے اس پر شوکت اعلان پر دیوبند کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہ آیا البتہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے ایک مدت بعد علمائے دیوبند کی خاموشی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا۔ماہ جولائی 1925 میں قادیان سے دیوبندی علما کے لئے تفسیر نویسی کا چیلنج شائع ہوا دیوبندیوں کے ساکت رہنے پر میں سینہ ٹھونک کر میدان میں آنکلا کہ میں دیوبند کی ہوں مجھ سے مقابلہ کر لو جبکہ خود جناب مولوی 471