مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 469 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 469

مباہلہ کی درخواست پیش کروں تا جو راستی کا دشمن ہے وہ تباہ ہو جائے اور جو اندھیرے کو پسند کرتا ہے وہ عذاب کے اندھیرے میں پڑے پہلے میں نے کبھی ایسے مباہلہ کی نیت نہیں کی اور نہ چاہا کہ کسی پر بد دعا کروں۔عبدالحق غزنوی ثم امرتسری نے مجھے سے مباہلہ چاہا مگر میں مدت تک اعراض کرتا رہا، آخر اس کے نہایت اصرار سے مباہلہ ہوا مگر میں نے اس کے حق میں کوئی بد دعا نہیں کی لیکن اب میں بہت ستایا گیا اور دکھ دیا گیا، مجھے کافر ٹھہرایا گیا، مجھے دجال کہا گیا، میرا نام شیطان رکھا گیا، مجھے کذاب اور مفتری سمجھا گیا، میں ان کے اشتہاروں میں لعنت کے ساتھ یاد کیا گیا۔میں ان کی مجلسوں میں نفرین کے ساتھ پکارا گیا، میری تکفیر آپ لوگوں نے ایسے کمر باندھی کی گویا آپ کو کچھ بھی شک میرے کفر میں نہیں ہر ایک نے مجھے گالی دینا اجرِ کا موجب سمجھا اور میرے پر لعنت بھیجنا اسلام کا طریق قرار دیا۔پر ان سب تلخیوں اور دکھوں کے وقت خدا میرے ساتھ تھا۔ہاں وہی تھا جو ہر یک وقت مجھ کو تسلی اور اطمینان دیتا رہا۔کیا ایک کیڑا ایک جہان کے مقابل کھڑا ہوسکتا ہے، کیا ایک ذرہ تمام دنیا کا مقابلہ کرے گا، کیا ایک دروغ گو کی ناپاک روح یہ استقامت رکھتی ہے، کیا ایک ناپاک مفتری کو یہ طاقتیں حاصل ہوسکتی ہیں۔سو یقیناً سمجھو کہ تم مجھ سے نہیں بلکہ خدا سے لڑ رہے ہو۔کیا تم خوشبو اور بدبو میں فرق نہیں کر سکتے ، کیا تم سچائی کی شوکت کو نہیں دیکھتے۔بہتر تھا کہ خدا تعالیٰ کے سامنے روتے اور ایک ترساں اور ہراساں دل کے ساتھ اس سے میری نسبت ہدایت طلب کرتے اور پھر یقین کی پیروی کرتے نہ شک اور وہم کی۔سو اب اٹھو اور مباہلہ کے لئے تیار ہو جاؤ۔“ ساری دنیا کو عمومی چیلنج: انجام آتھم روحانی خزائن جلد نمبر 11 صفحہ 64 تا65) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ساری دنیا کو چیلنج دیا کہ اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذاہب کی سچائی ثابت کریں۔سکتا ہے چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اب آپ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ حضرت مرزا صاحب تو وفات پا چکے ہیں۔اب کس طرح مقابلہ ہو کیونکہ آپ علیہ السلام کا سلسلہ مٹ نہیں گیا اب بھی آپ علیہ السلام کی جماعت موجود ہے اور ہم لوگ اس مقابلہ کے لیے تیار ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ آج بھی اسلام کی صداقت ظاہر کرنے اور اپنے پیارے بندوں کی اپنے نشانات سے تائید کرنے کے لیے اسی طرح موجود ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے وقت تائید کرتا رہا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے بعد ہمارے وقت میں بھی تائید کرے گا اس لئے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد تمام دنیا کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ایسا ہے جیسے اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذہب کے سچا ہونے کا یقین ہے تو آئے اور آکر ہم سے مقابلہ کرے۔مجھے تجربہ کے ذریعہ ثابت ہو گیا ہے کہ اسلام ہی زندہ مذہب ہے اور کوئی مذہب اس کے مقابلہ پر نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ ہماری دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے اور ایسے حالات میں قبول کرتا ہے جب کہ ظاہری سامان بالکل مخالف ہو تے ہیں اور یہی اسلام کے زندہ مذہب ہونے کی بہت بڑی علامت ہے اگر کسی کو شک و شبہ ہے تو آئے اور آزمائے۔ہاتھ کنگن کو آرسی کیا! اگر کوئی ایسے لوگ ہیں جنہیں یقین ہے کہ ہمارا مذہب زندہ ہے تو آئیں ان کے ساتھ جو خدا کا تعلق اور محبت ہے اس کا ثبوت دیں۔اگر 469