مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 454
بلی گراہم فروری کے آخر میں نیروبی پہنچے اور عظیم الشان جلسے منعقد کئے گئے جن میں انہوں نے لاکھوں نفوس سے خطاب کیا۔شیخ مبارک احمد صاحب نے 3 مارچ 1961ء کو ڈاکٹر بلی گراہم کے نام ایک خط لکھا جس میں ان کے سامنے انجیل کے اصولوں کی رُو سے بذریعہ دعا لا علاج بیماروں کو تندرست کرنے کا طریق رکھا اور اس کے مطابق اسلام اور عیسائیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کو للکارا۔اخبارات میں اس چیلنج کا خوب چرچا ہوا اور پریس نے شیخ صاحب کا فوٹو شائع کر کے اس کو اہمیت دے دی جس سے متاثر ہو کر ڈاکٹر گراہم سے ان کے ایک لیکچر کے بعد سوال کیا گیا کہ کیا آپ یہ پہینچ قبول کریں گے؟ ڈاکٹر گراہم نے جواب دیا میرا کام محض وعظ کرنا ہے مریضوں کو چنگا کرنا نہیں۔عیسائی حلقوں کی طرف سے ڈاکٹر بلی گراہم (Dr۔Billy Graham) کو مجبور کیا جانے لگا کہ وہ یہ چیلنج قبول کر کے عیسائیت کی سچائی کا ثبوت دیں ورنہ عیسائیت کو سخت زک پہنچے گی مگر وہ آمادہ نہ ہو سکتے تھے اور نہ ہوئے۔افریقہ کے غیر احمدی مسلمانوں نے شیخ مبارک احمد صاحب کو مبارک باد دی اور اقرار کیا کہ آپ نے عیسائیت کے بالمقابل اسلام کا جھنڈا خوب بلند رکھا ہے۔میں لکھا: اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد غزنوی نے پاکستان کے اخبار مشرق (لاہور) مؤرخہ 18 اکتوبر 1963ء ” چند سال سے افریقہ میں تبلیغ کے سلسلہ میں مسلمانوں و عیسائیوں کے درمیان معرکہ جاری ہے عیسائی مشنری اپنے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو کر افریقہ پر ایک مدت سے حملہ آور ہیں اس کے مقابل میں مسلمان مشنریوں نے وہی طریقے اختیار کئے فرق صرف اتنا تھا کہ مسلمانوں کی تنظیم اتنی مکمل نہ تھی اور ان کے مالی وسائل حد درجه محدود تھے جس کی کمی پوری کرنے کے لئے انہوں نے حد درجہ جسمانی مشقت سے کام لیا۔امریکہ کے ایک پادری بلی گراہم کو پچھلے دنوں بڑے شہرت حاصل ہوئی تھی مسلمان مبلغوں نے ان کا افریقہ میں اس طرح پیچھا کیا کہ ان کی خطابت اور زور بیان کا بھرم کھل گیا۔ہر جلسہ میں ان سے عیسائیت کے بارے میں ایسے سوال کئے گئے کہ کوئی عیسائی ان کا تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔انہیں ہر شہر میں مناظرہ کا چیلنج دیا گیا جب انہوں نے یہ رنگ دیکھا تو وہ اپنا چار مہینہ کا طویل پروگرام مہینہ بھر میں ختم کر کے واپس بھاگ گئے اور اس دن سے ان کی شہرت پھر کبھی سننے میں نہ آئی۔“ برکینا فاسو (Burkina Faso) میں احمدیت کا پیغام: تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 89-288) بُرکینا فاسو میں پہلی مرتبہ غانا (Ghana) سے احمدیت کا پیغام 51-1950 ء میں پہنچا۔ابتدا میں Sourou کے علاقہ میں دو جماعتیں قائم ہوئیں اور ان کی خوب مخالفت ہوئی حتی کہ ایک جماعت Kou Gny کے افراد کو گاؤں بدر بھی کر دیا گیا مگر ان کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی اور وہ ہجرت کر گئے۔بُرکینا فاسو میں مکرم محمود ناصر ثاقب صاحب 2001 ء سے بطور امیر و مشنری انچارج خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔جماعت کو رجسٹرڈ ہوئے 18 سال گزر چکے ہیں اور ترقی قابل دید ہے۔جماعتی لحاظ سے یہ ملک 12 ریجنز (Regions) پر منقسم ہے جس کا انچارج ریجنل مشنری کہلاتا ہے، دعوت الی اللہ کے ذریعہ جماعت کو اب تک 4000 بیوت الذکر حاصل ہو چکی ہیں جن میں سے 27 جماعت کی خود تعمیر کردہ ہیں۔454