مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 453
عبدالرحیم صاحب نیر کا انتخاب فرمایا جو ان دنوں لنڈن (London) میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔چنانچہ مولانا نیر رضی اللہ 9فروری 1921ء کو لنڈن سے روانہ ہوئے اور 19 فروری 1921 ء سیرالیون پہنچے۔چند روز سیرالیون میں تبلیغ احمدیت کے بعد مولانا نیر صاحب رضی اللہ عنہ 28 فروری 1921ء کو غانا کی بندرگاہ سالٹ پانڈ پہنچے۔اس طرح غانا میں پہلا احمد یہ مشن ہاؤس قائم کیا جس کے اثر سے گولڈ کوسٹ جو عملاً عیسائیت کا گڑھ تھا آہستہ آہستہ اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں میں آنے لگا۔11 مارچ 1921ء کو اکرافول میں پہلا جلسہ ہوا۔پھر 18 مارچ 1921ء کو دوسرا جلسہ ہوا اور جلسہ کے دوسرے یہ دن ہزاروں لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔“ ملخص از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 269) نائجیر یا مشن ہاؤس: 66 غانا میں ہزاروں لوگوں کے قبول احمدیت کے بعد حضرت مولانا عبدالرحیم نیر صاحب نے اپنی توجہ نائجیریا کی طرف مبذول کی۔چنانچہ پہلی بار مولانا نیر صاحب بذریعہ جہاز 8 اپریل 1921ء کو نائجیریا کے دارالحکومت لیگوس پہنچے۔لیگوس میں مسلمانوں کی تعداد پینتیس ہزار اور عیسائی ہیں ہزار کے لگ بھگ تھے مگر علم، دولت، تجارت اور سرکاری عہدے سب عیسائیوں کے ہاتھ میں تھے اور عیسائیوں کے چالیس مدارس کے مقابل مسلمانوں کا صرف ایک (محمدن سکول) تھا۔ان حالات میں مولانا نیر صاحب نے لیگوس میں قدم رکھا اور مختلف مساجد میں لیکچرز دینا شروع کئے پھر پبلک لیکچروں کا باقاعدہ سلسلہ شروع فرمایا جن سے ہزاروں سعید روحیں احمدیت کی طرف کشاں کشاں آنے لگیں۔“ ملخص از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 269) اس کے بعد انہی بزرگوں کی کوششوں اور دعاؤں اور رہنمائی سے کئی ایک مشن ہاؤسز قائم ہوئے۔چنانچہ مغربی افریقہ کے ملک گیمبیا کے گورنر جنرل الحاج سر ایف ایم سنگھاٹے کا قبول احمدیت انہی مشن ہاؤسز کی مساعی کا ہی ایک نتیجہ تھا۔سر ایف ایم سنگھائے 1965ء میں احمدی ہوئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“ کے پہلے مظہر بنے۔۔جس طرح حضرت مسیح موعو علیہ السلام کو تبلیغ اسلام میں بہت سی اندرونی اور بیرونی رکاوٹوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا اسی طرح آپ علیہ السلام کے بعد آپ علیہ السلام کے متبعین اور فدائین کو بھی اسلام کی تبلیغ میں کئی قسم کے آلام جھیلنے پڑے۔چنانچہ ہندوستان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابل پر عیسائیت کی طرف سے ڈپٹی عبداللہ آتھم سامنے آیا اور افریقہ میں بہت سے دشمنان حق کے علاوہ ایک شخص امریکی نژاد مسیحی مناد ڈاکٹر بلی گراہم بھی دائمین احمدیت کے مقابل آیا اور منہ کی کھا کے واپس امریکہ بھاگ گیا۔ذیل میں افریقہ میں جماعت کے احمدی مشنری انچارج مولانا شیخ مبارک احمد صاحب کی طرف سے ڈاکٹر بلی گراہم کو دیئے جانے والے روحانی چیلجز کا مختصراً ذکر کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر بلی گراہم (Dr۔Billy Graham) کو مقابلہ روحانی کا چیلنج: امریکہ کے مشہور مسیحی مناد ڈاکٹر بلی گراہم 1961 ء کے شروع میں افریقہ کے تبلیغی دورہ پر روانہ ہوئے تو امریکی پریس 66 ،، خصوصاً اخبار ٹائم (Times) “ اور ” نیوز ویک (News Week نے اس دورہ کو بہت اہم قرار دیا اور عیسائیت کی کامیاب کی بڑی امیدیں اس سے وابستہ کیں۔افریقہ کے طول و عرض میں کئی ماہ سے ان کی آمد کا زبردست پرو پیگنڈا جاری تھا کہ ڈاکٹر 453