مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 445
عبداللہ آتھم مناظر تھے۔اس مباحثہ کو ڈاکٹر مارٹن کلارک نے جنگ مقدس کا نام دیا: یہ جنگ مقدس جو کاسر صلیب اور حامیان صلیب کے مابین ہوئی اس میں میدان اسلام کے پہلوان کے ہاتھ رہا اور کسر صلیب ایسے رنگ میں ہوا کہ پھر صلیب جڑنے کے قابل نہ رہی۔مسلمان خوش ہوئے اور اہالیان صلیب کے ہاں صف ماتم بچھ گئی۔مسیح موعود علیہ السلام کا روحانی حرید: احادیث میں آتا ہے کہ مسیح موعود دجال کو اپنے حربہ (برچھی) کے ایک ہی وار سے قتل کر دے گا اور ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ وہ باب لد میں قتل کرے گا اور لذعربی زبان میں الڈ کی جمع ہے یعنی ایسے لوگ جو جدال اور مباحثہ میں غالب آ جائیں۔سو اس میں اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود اور آپ کے ساتھی دجال کو مباحثات کے دروازے سے قتل کریں گے۔چنانچہ یہ پیش گوئی اپنی پوری شان سے پوری ہوئی۔“ تعارف کتاب جنگ مقدس روحانی خزائن جلد 6 صفحه 15 از مولانا جلال الدین شمس صاحب) کاسر صلیب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابتدائے مباحثہ میں ہی ایک ایسا وار کیا کہ جس سے آپ علیہ السلام کا حریف پادری عبداللہ آتھم اور اس کے مددگار آخر دم تک نیم مردہ کی مانند آئیں بائیں شائیں تو کرتے رہے لیکن حقیقی جواب نہ اُن سے نہ بن پایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس کامیاب وار کے بارے میں فرماتے ہیں: اس بحث میں نہایت ضروری ہو گا کہ جو ہماری طرف سے کوئی سوال ہو یا ڈپٹی عبداللہ آتھم کی طرف سے کوئی جواب ہو وہ اپنی طرف سے نہ ہو بلکہ اپنی اپنی الہامی کتاب کے حوالہ سے ہو جس کو فریق ثانی حجت سمجھتا ہو اور ایسا ہی ہر ایک دلیل اور ہر ایک دعویٰ جو پیش کیا جاوے وہ بھی اسی التزام سے ہو۔غرض کوئی فریق اپنی اپنی کتاب کے بیان سے باہر نہ جائے جس کا بیان بطور حجت ہو سکتا ہے۔“ جنگ مقدس روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 89) سارے مباحثہ کو اوّل تا آخر پڑھ لیا جائے تو یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ مسیحی مناد آخر دم تک اس معیار پر پورا نہیں اتر سکا بلکہ تعجب ہے کہ وہ دعوئی اور دلیل میں بھی فرق نہ کر سکا جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم سے جو دعوئی پیش فرمایا اس کے اثبات میں عقلی و نقلی دلائل بھی قرآن کریم سے ہی دیئے۔مباحثہ کے نتائج: اس مباحثہ سے بہت سارے خوش گوار نتائج اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے حق میں ظاہر ہوئے۔چنانچہ ایام مباحثہ کے دوران میاں نبی بخش سوداگر پشمینہ امرت سر اور ماہر فقہ عالم باعمل حضرت قاضی امیرحسین رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں پر بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہو گئے، اسی طرح کرنل الطاف علی خان صاحب رئیس کپور تھلہ جو عیسائیت اختیار کر چکے تھے اسلام لے آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس رنگ میں اسلام کو زندہ مذہب، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ نبی اور قرآن کریم کو زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا وہ ایسے امور نہ تھے جن سے عیسائی دنیا متاثر نہ ہوتی۔چنانچہ 1894ء میں دنیا بھر کے پادریوں کی جو عظیم الشان کانفرنس لندن میں منعقد ہوئی اس کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے لارڈ بشپ آف گلوسٹر ریورنڈ چارلس جان ایلی کوٹ (Glouster Rev۔Charles Jhon Elcot) نے کیا: ، 445