مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 444 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 444

عیسائیت سے اپنی وفاداری کا اظہار کرتا ہے اور مشرقی انداز پر ماسکو (Moscow) کے شاہانہ ٹھاٹھ باٹ میں زار روس(Czar of Russia) کو دیکھو، تاج پوشی کے وقت ابن آدم کے طشت میں رکھ کر اسے تاج پیش کیا جاتا ہے یا پھر مغربی جمہوریت (امریکہ) کے ایک صدر کے بعد دوسرے صدر کو دیکھو! کہ ان میں سے ہر ایک عبادت کے نسبتاً سادہ لیکن عمیق اسلوب میں ہمارے خداوند کے ساتھ وفاداری اور تابعداری کا اظہار کرتا چلا جاتا ہے۔امریکی، برطانوی، جرمنی اور روسی سلطنتوں کے حکمران اقرار کرتے ہیں کہ وہ یسوع مسیح کے وائسرائے ہیں اور اسی حیثیت سے اپنی اپنی سلطنتوں کے حکمران ہیں۔کیا ان سب کے زیرنگیں علاقے مل کر ایک ایسی وسیع و عریض سلطنت کی حیثیت نہیں رکھتے کہ جس کے آگے آزمنہ قدیم کی بڑی سے بڑی سلطنت بھی سراسر بے حیثیت نظر آنے لگتی ہے۔پھر عیسا یت کے عالمی اثرات کے زیر عنوان اپنے ایک پبلک لیکچر میں اسلامی ممالک کے اندر عیسائیت کی عظیم الشان فتوحات پر فخر کرتے ہو ئے ڈاکٹر بیروز نے یہ اعلان کیا: " اب میں اسلامی ممالک میں عیسائیت کی روز افزوں ترقی کا ذکر کرتا ہوں۔اس ترقی کے نتیجے میں صلیب کی چرکار آج ایک طرف لبنان پر ضوفگن ہے تو دوسری طرف فارس کے پہاڑوں کی چوٹیاں اور باس فورس کا پانی اس کی چمکا ر سے جگمگ جگمگ کر رہا ہے۔یہ صورت حال پیش خیمہ ہے اس آنے والے انقلاب کا کہ جب قاہرہ، دمشق اور طہران کے شہر خداوند یسوع مسیح کے خدام سے آباد نظر آئیں گے۔حتیٰ کہ صلیب کی چہکار صحرائے عرب کے سکوت کو چیرتی ہوئی وہاں بھی پہنچے گی۔اس وقت خداوند یسوع اپنے شاگردوں کے ذریعے مکہ کے شہر اور خاص کعبہ کے حرم میں داخل ہو گا اور بالآخر وہاں اس کے حق و صداقت کی منادی کی جائے گی کہ ابدی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور یسوع مسیح کو جانے جسے تو نے بھیجا ہے۔“ 66 بیروز لیکچرز صفحه 42 بحوالہ تعارف کتاب سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب روحانی خزائن جلد 12 صفحه 7 و 8 مرتبہ مولانا جلال الدین شمس صاحب) قبل ازیں 1851 ء میں ہندستانی عیسائی صرف 91092 تھے اور 1881ء میں ان کی تعداد 417372 تھی، جس زمانہ میں یہ مباحثہ ہوا اُس وقت مسیحی مناد، عیسائی مشنری یوپین اور ہندوستانی پنجاب کے بیسیوں مقامات پر لوگوں کو عیسائیت کی طرف دعوت دے رہے تھے اور دجال پورے زور سے دین اسلام کی تباہی کے لئے ہمہ تن مصروف تھا اور علمائے اسلام خواب خرگوش میں تھے۔سب سے پہلے چرچ مشنری سوسائٹی نے ہندستان میں 1899ء میں تبلیغی کام شروع کیا تھا لیکن اس وقت بہت سی مشنری سوسائٹیاں کام کر رہی تھیں جن کے ہیڈ کوارٹرز انگلستان جرمن اور امریکہ وغیرہ ممالک وغیرہ تھے۔1901ء میں ان مشنری سوسائٹیوں کی تعداد 37 تھی اور ایک بہت بڑی تعداد مشنریوں کی ایسی بھی تھی جو ان سوسائٹیوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔وسط ایشیا میں عیسائیت کے مشنری کام کیلئے پنجاب کو ایک قدرتی ہیں (Base) سمجھتے تھے اور پنجاب کے تیرہ مشہور شہروں میں ان کے بڑے بڑے مشن قائم تھے، ان میں ایک مشن امرت سر میں قائم تھا، یہ مشن چرچ مشنری سوسائٹی نے 1852ء میں قائم کیا تھا۔تعارف کتاب جنگ مقدس روحانی خزائن جلد نمبر 6 صفحه 8 از مولانا جلال الدین شمس صاحب) احادیث میں مذکور ہے کہ مسیح موعود کے کاموں میں سے ایک اہم کام کسر صلیب یعنی صلیب کو توڑنا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسر صلیب کا بیڑہ اٹھایا اور اپنے روحانی حربوں کی مدد سے صلیبی گروہ کو پاش پاش کر دیا اور پاش پاش بھی ایسا کہ تاقیامت سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا۔امرت سر میں اہل اسلام اور عیسائیوں کے مابین 22 مئی 1893ء سے لے کر 5 جون 1893ء تک مناظرہ ہوا جس میں اہل اسلام کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور عیسائیوں کی طرف سے ڈپٹی 444