مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 43
کے لئے اسلام کی دعا فرمائی اَللَّهُمَّ اَعَزَّ الْإِسْلَامَ بِاَحَدٍ الرَّجُلَيْنِ أَمَّا اِبْنَ هَشَامٍ وَأَمَّا عُمَرَ بْنَ خَطَّابِ یعنی خدایا! اسلام کو ابو جہل یا عمر بن خطاب سے معزز کر مگر یہ دولت تو قسام ازل نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قسمت میں لکھ دی تھی۔ابوجہل کے حصہ میں کیونکر آتی اس دعائے مستجاب کا یہ اثر ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد اسلام کا یہ سب سے بڑا دشمن اس کا سب سے بڑا دوست اور سب سے بڑا جاں نثا ر بن گیا۔یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دامن دولت ایمان سے بھر گیا۔ڈالِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ“ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قبول اسلام: (سیر الصحابہ جلد 1 صفحہ 98) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ تاریخ الخلفا میں یوں درج ہے: ”ابن سعد و ابو یعلی رحمہ اللہ تعالیٰ و حاکم اور بیہقی نے دلائل میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ ) تلوار حمائل کئے ایک روز گھر سے نکلے ہی تھے کہ قبیلہ بنو زہرہ کا ایک شخص آپ رضی اللہ عنہ کو ملا اور پوچھا: اے عمر! کہاں کا قصد ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادہ سے چلا ہوں، اس شخص نے کہا کہ اس قتل کے بعد تم بنی ہاشم اور بنی زہرہ سے کس طرح بچ سکو گے؟ (یعنی وہ اس قتل کا بدلہ لیں گے ) اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کر دیا، اس کو جواب دیا کہ معلوم ہوتا ہے، تم نے بھی اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا ہے۔اس اس شخص نے کہا میں تم کو اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات بتاتا ہوں وہ یہ کہ تمہاری بہن اور بہنوئی دونوں اپنا آبائی دین ترک کر چکے ہیں۔یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہیں سے پلٹ پڑے اور اپنی بہن کے گھر پہنچے اس وقت جناب خباب رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے لیکن وہ آپ رضی اللہ عنہ کی آہٹ پا کر گھر میں کسی جگہ چھپ گئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے گھر میں آنے سے پہلے یہ تینوں آہستہ آواز میں سورہ طہ پڑھ رہے تھے اور ان کے آ جانے پر خاموش ہو گئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے میں داخل ہوتے ہی دریافت کیا کہ تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن اور بہنوئی نے کہا: کچھ نہیں ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم دونوں بے دین ہو گئے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ کے بہنوئی نے کہا ہاں تمہارے دین میں حق نام کو نہیں ہے! یہ سنتے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے غضب ناک ہو کر بہنوئی کے زور سے طمانچہ مارا۔یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ کی بہن ان کو بچانے آئیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے بہن کو بھی ہاتھ سے پرے دھکیل دیا جن سے ان کے بھی چوٹ آئی اور منہ خون سے بھر گیا۔آپ رضی اللہ عنہ کی بہن نے غصہ سے کہا جب تمہارا دین سچا نہیں تو میں گواہی دیتی ہوں کہ سوائے ایک معبود کے دوسرا کوئی خدا نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا مجھے وہ کتاب دو جو تمہارے پاس ہے تا کہ میں بھی اس کو پڑھوں! آپ رضی اللہ عنہ کی بہن نے کہا کہ تم نجس ہو اور اس مقدس کتاب کو پاک لوگ ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں۔پہلے غسل کرو یا کم از کم وضو کر لو، آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے کہنے پر) وضو کیا اور وہ کتاب لے کر پڑھی۔اس میں سورہ طہ لکھی ہوئی تھی۔آپ رضی اللہ عنہ اس کو پڑھنے لگے اور جس وقت اس آیت پر پہنچے إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُنِي وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى (بیشک میں ہی اللہ تعالیٰ ہوں اور کوئی دوسرا میرے سوا معبود نہیں اس لیے تم میری عبادت کرو اور میری ہی یاد میں نماز پڑھو)۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ 43