مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 426 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 426

قاتلانہ حملہ کر دیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب معجزانہ طور پر بچ گئے۔صاحبزادہ صاحب احمد صاحب معجزانہ طور پر بچ گئے۔صاحبزادہ صاحب پر حملہ کوئی انفرادی نوعیت کا فعل نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی سکیم کا نتیجہ تھا جس کے پیچھے قادیان میں فساد کرنے کی سازش کار فرما تھی۔جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے 12 جولائی 1935 ء کو خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا: ”وہ حملہ جو شریف احمد صاحب پر کیا گیا ہے ہمیں عقل و جذبات کا توازن قائم رکھتے ہوئے اس کے متعلق سوچنا چاہئے کہ یہ انفرادی فعل تھا یا سازش کا نتیجہ تھا؟ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس فعل کی نوعیت بتاتی ہے کہ یہ فعل انفرادی نہیں تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ وہ دشمن جو ہمیں ذلیل کرنا چاہتا تھا دنیا کی نظروں میں ذلیل ہو گیا۔دشمن کی شدید انگیخت کے باوجود امن قائم رہا۔گویا صیاد نے جو جال ہمارے لئے بچھایا تھا وہ خود ہی اس کا شکار ہو گیا ہے۔جب دنیا کے سامنے یہ بات آئے گی کہ اس حملہ سے پہلے ہمیں اس کی اطلاع تھی اور ہم نے حکومت کو اس کی اطلاع دے دی تھی جس نے قطعاً کوئی کارروائی نہیں کی اور وہ یہ واقعات پڑھے گی کہ ایک ذلیل گداگر جس کی ساری عمر احمدیوں کے ٹکڑوں پر بسر ہوئی ہے، مرزا شریف احمد صاحب پر حملہ آور ہوا اور احمدی پھر بھی خاموش رہے تو وہ وقت تمہاری فتح کا ہو گا۔“ احرار کا عبرتناک انجام: (الفضل 20 جولائی 1935ء) مخالفین احمدیت خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ ہم احمدیوں کے خلاف ملک گیر شورش برپا کر نے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اب عنقریب احمدیت کا نام و نشان مٹادیں گے کہ اچانک خدا کی بے آواز لاٹھی مسجد شہید گنج کے قضیے کی شکل میں نمو دار ہوئی اور ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔لاہور میں ایک مسجد شہید گنج تھی جو سکھوں کے قبضے میں تھی۔8 جولائی 1935 ء میں سکھوں نے یکا یک یہ مسجد مسمار کر دی اس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو گئی ، پولیس کو گولی چلانا پڑی، مسلمانوں میں زبردست ہیجان پیدا ہو گیا، عام مسلمانوں کا خیال تھا کہ احرار مسلمانوں کی قیادت کے فرائض سر انجام دیں گے مگر احراری لیڈر نہ صرف اپنے دفتر میں آرام بیٹھے تماشا رہے بلکہ مسجد پر قربان ہونے والوں کو حرام موت مرنے والا قرار دیا۔اس سے احراری حقیقت کے رُخ سے نقاب اُٹھ گیا۔مسلمان ان سے بیزاری کا اظہار کرنے لگے اور سخت سے سخت الفاظ استعمال کرنے لگے۔نمونے کے طور پر ایک حوالہ پیش ہے، دہلی کے رسالہ اسلامی دنیا نے جولائی 1935ء میں لکھا: مجلس احرار جیسی افتراق انگیز انجمنوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے ایسے ہی غداروں کے ہاتھوں مسلمان ذلیل ہوئے ہیں۔مجلس احرار کی اس غدارانہ روش کے بعد مسلمانوں کو معلوم ہو گیا کہ عطاء اللہ شاہ بخاری کی مجلس احرار کوفیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی جنہوں نے آل رسول کو اور عاشقان اسلام کو بلا کر یزید کے ہاتھوں شہید کرا دیا تھا۔“ ( تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 561) الغرض ہر طرف احرار کی رُسوائی ہوئی۔کانگریس جس کے روپے پیسے پر احرار پل رہے تھے انہوں نے احرار کو مسلمانوں کا نمائندہ ماننے سے انکار کر دیا، مسلمانوں نے رڈ کر دیا، آپس میں بھی اختلاف پڑ گیا، مولوی ظفر علی خان جو کبھی احراریوں کے ساتھ تھے، وہ گالیاں دینے لگے۔مولوی ظفر علی خان صاحب لکھتے ہیں: 426